واشنگٹن — امریکا میں 10 سائنسدانوں اور محققین کی پراسرار ہلاکتوں اور گمشدگیوں نے سیکیورٹی اداروں اور عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ان تمام افراد کا تعلق مبینہ طور پر سرکاری جوہری پروگرامز، ناسا، یا اہم دفاعی و تحقیقی اداروں سے بتایا جا رہا ہے۔
یہ واقعات مختلف ریاستوں میں الگ الگ وقتوں پر پیش آئے، تاہم ان کے درمیان ممکنہ ربط پر اب تک کوئی سرکاری نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
سائنسی کمیونٹی میں تشویش اور سوالات
رپورٹس کے مطابق متاثرہ افراد میں سے کئی اعلیٰ سطحی سائنسی اور تکنیکی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے، جن کی رسائی حساس دفاعی یا تحقیقی ڈیٹا تک تھی۔
مختلف کیسز میں کچھ افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں جبکہ کئی اب بھی لاپتہ ہیں۔ کئی اموات کی باضابطہ وجوہات بھی ظاہر نہیں کی گئیں، جس سے قیاس آرائیوں کو مزید تقویت ملی ہے۔
اہم کیسز کی تفصیل
1) اسٹیون گارسیا
48 سالہ سرکاری کنٹریکٹر، جو جوہری مواد سے متعلق سیکیورٹی نظام میں کام کرتے تھے، اگست 2025 میں البوکرک میں گھر سے نکلنے کے بعد لاپتہ ہوئے۔ ان کے ہاتھ میں ہینڈ گن موجود تھی۔
2) فرینک مائیوالڈ
ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے محقق، جولائی 2024 میں 61 سال کی عمر میں مردہ پائے گئے، وجہ موت ظاہر نہیں کی گئی۔
3) کارل گرلمیر
فلکیاتی طبیعیات دان، فروری 2026 میں اپنے گھر کے باہر گولی لگنے سے ہلاک ہوئے۔ کیس میں قتل کی وجوہات واضح نہیں۔
4) مائیکل ڈیوڈ ہکس
جے پی ایل سے وابستہ فزکس کے ماہر، جولائی 2023 میں انتقال ہوا، وجہ موت غیر واضح رہی۔
5–7) مونیکا جیکنٹو رضا، میلیسا کیسیاس، انتھونی شاویز
لاس الاموس نیشنل لیبارٹری سے وابستہ افراد، 2025 میں مختلف واقعات میں لاپتہ ہوئے۔ کچھ کیسز میں آخری بار انہیں تنہا یا غیر واضح حالات میں دیکھا گیا۔
8) ولیم نیل میک کیلینڈ
ریٹائرڈ ایئر فورس جنرل، فروری 2026 میں اپنے گھر سے نکلنے کے بعد لاپتہ ہو گئے۔
9) نونو لوریرو
MIT کے نیوکلیئر فزکس پروفیسر، دسمبر 2025 میں گھر میں گولی لگنے سے ہلاک ہوئے۔
10) جیسن تھامس
فارماسیوٹیکل ریسرچر، دسمبر 2025 میں لاپتہ ہوئے اور مارچ 2026 میں ان کی لاش ایک جھیل سے ملی۔
حکومتی ردعمل اور تحقیقات
امریکی حکام کے مطابق ان واقعات کی مختلف سطحوں پر تحقیقات جاری ہیں۔ بعض کیسز کو حادثہ، خودکشی یا ذاتی تنازع قرار دیا جا رہا ہے، تاہم کئی کیسز میں واضح وجہ سامنے نہیں آ سکی۔
سابق اور موجودہ حکومتی ذرائع کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ان واقعات پر بریفنگ طلب کی ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ ابتدائی رپورٹ جلد پیش کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ فی الحال اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ یہ واقعات محض اتفاق ہوں، تاہم تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
