زوران میلانوویچ کروشیا کے دوبارہ صدر منتخب ہوگئے
زوران میلانوویچ نے کروشیا کے صدر کے طور پر اپنی دوسری مدت کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ زگریب میں ہونے والی افتتاحی تقریب میں انہوں نے عہدے کا حلف اٹھایا، جس کے بعد وہ مزید پانچ سال کے لیے ملک کی قیادت کریں گے۔
میلانوویچ نے پہلی بار 2020 میں صدر کا عہدہ سنبھالا تھا، اور حالیہ صدارتی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر کے اپنی دوسری مدت کے لیے منتخب ہوئے۔ اپنے افتتاحی خطاب میں انہوں نے جمہوریت کو مضبوط بنانے، قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے، اور یورپی یونین و نیٹو میں کروشیا کے کردار کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
صدر میلانوویچ کے دوسرے دورِ حکومت کی ترجیحات
✅ معاشی ترقی اور EU کے ساتھ تعلقات
کروشیا کی معیشت کو ٹیکنالوجی، سیاحت اور پائیدار ترقی کے ذریعے فروغ دینے اور یورپی یونین کے ساتھ اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کا منصوبہ۔
✅ دفاع اور سلامتی
بڑھتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی چیلنجز کے پیش نظر نیٹو میں کروشیا کے کردار کو مزید مستحکم کرنا اور قومی سلامتی کو یقینی بنانا۔
✅ عدالتی اور ادارہ جاتی اصلاحات
شفافیت کو فروغ دینا، بدعنوانی کے خلاف سخت اقدامات اور عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنانا۔
✅ سماجی پالیسیاں
صحت عامہ، مزدوروں کے حقوق اور آبادی میں کمی جیسے چیلنجز کا حل نکالنے پر توجہ مرکوز کرنا۔
میلانوویچ کا دوسرا دور سیاسی کشیدگی کے دوران شروع ہو رہا ہے، کیونکہ ان کے اور وزیر اعظم اینڈریج پلینکوویچ کی حکومت کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے قومی اتحاد اور سیاسی استحکام کے لیے مل کر کام کرنے کا وعدہ کیا ہے۔