بیروت : حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ کی نماز جنازہ اسرائیلی فضائی حملے میں ان کی ہلاکت کے تقریباً پانچ ماہ بعد آج بیروت میں ادا کر دی گئی جس میں حزب اللہ کے ہزاروں حامیوں اور شہریوں نے شرکت کی۔
ان کے ساتھ ساتھ حزب اللہ کی ایگزیکٹو کونسل کے سربراہ ہاشم صفی الدین کی بھی تدفین کی گئی۔لبنان کے صدر جوزف عون کے نمائندوں اور ملک کے وزیر اعظم نے بھی حزب اللہ کے رہنماؤں کے جنازوں میں شرکت کی۔
بیروت میں بی بی سی فارسی کی مشرق وسطیٰ کی نامہ نگار نفیسہ کونوارد کے مطابق تقریب کے مقام سے چار اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے تقریب کے اوپر دو بار کم اونچائی پر پرواز کی اور ان جیٹ طیاروں کی آواز نے ہجوم میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ حزب اللہ کے حامیوں نے ‘اللہ اکبر’ اور اسرائیل مخالف نعرے لگائے۔ ان لڑاکا طیاروں کا گزر نعیم قاسم کی تقریر کی نشریات کے آغاز کے ساتھ ہی ہوا۔اسرائیلی لڑاکا طیاروں کے بعد جبکہ لبنانی فوج کے طیارے بھی تقریب کے اوپر پرواز کر رہے تھے۔
حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نعیم قاسم نے تقریب میں کہا ‘اس قدر وسیع اور مقبول جنازہ لبنان میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔’انھوں نے تقریب میں دسیوں ہزار افراد کی شرکت کو ‘قومی اتحاد’ کی علامت قرار دیا۔
انھوں نے کہا کہ یہ لبنان کے مفاد میں نہیں ہے کہ وہ ‘اسرائیل کے ساتھ جنگ جاری رکھے’ اور اس لیے جنگ بندی کے معاہدے کے لیے اسرائیل کی تجویز سے اتفاق کیا۔
نعیم قاسم نے غزہ پر اسرائیل کے حملے میں مداخلت کے نصر اللہ کے فیصلے کی بھی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ نے غزہ کی جنگ میں مداخلت کی وجہ یہ تھی کہ اسرائیل کا ‘غزہ پر حملہ کرنے کے چار دن بعد لبنان پر حملہ کرنے کا ارادہ تھا، جلد یا بدیر وہ حملہ کر دیتا۔اسرائیل نے اس سے قبل دھمکی دی تھی کہ سیکرٹری جنرل نعیم قاسم کی مدت مختصر رہے گی۔
تقریب کے آغاز میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا۔ عراق میں آیت اللہ خامنہ ای کے نمائندے مجتبیٰ حسینی نے پیغام پڑھا۔ ایرانی حکومت کے سربراہ نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ‘دشمن کے جان لینے سے غاصبانہ قبضے، جبر اور استکبار کے خلاف مزاحمت کبھی ختم نہیں ہوتی اور مطلوبہ ہدف کے حصول تک جاری رہے گی۔’
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی تقریب میں شرکت کے لیے بیروت گئے ہیں۔
بیروت پہنچنے پر عباس عراقچی نے کہا کہ میں نے اسلامی جمہوریہ ایران اور عوام کی جانب سے تقریب میں شرکت کی اور کہا کہ ‘آج کا جنازہ دنیا کو یہ دکھا دے گا کہ مزاحمت زندہ ہے، حزب اللہ زندہ ہے۔’
مجتبیٰ حسینی کے علاوہ محمد حسن اختری، محسن قومی اور رضا تغاوی بھی ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی جانب سے حسن نصر اللہ اور ہاشم صفی الدین کے جنازوں میں شرکت کے لیے بیروت گئے۔
جنازے کے بعد حسن نصراللہ کو بیروت ہوائی اڈے کی شاہراہ کے قریب ان کے لیے مختص مقبرے میں دفن کیا گیا۔مرکزی تقریب کامل شمعون سٹیڈیم میں منعقد ہوئی جس میں تقریباً 50 ہزار افراد کی گنجائش ہے۔
لبنان کی حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ بیروت کے جنوب میں ایک مضافاتی علاقے میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔ کچھ عرصے بعد حزب اللہ کی ایگزیکٹو کونسل کے سربراہ اور گروپ کے ڈی فیکٹو سیکنڈ ان کمانڈ، ہاشم صفی الدین، جو حسن نصر اللہ کے بعد متوقع سربراہ تھے وہ بھی اسرائیلی حملے میں مارے گئے۔
ہاشم صفی الدین حسن نصر اللہ کے کزن اور پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر قاسم سلیمانی کے سسر ہیں، جو 2020 میں عراق میں ایک امریکی حملے میں مارے گئے تھے۔
