فلسطینیوں نے غزہ کی تباہ شدہ مساجد کے درمیان پہلی تراویح کی نماز ادا کی

0

رمضان المبارک کے مقدس مہینے کی پہلی رات، غزہ میں فلسطینیوں نے تباہ شدہ مساجد کے ملبے کے درمیان پہلی نماز تراویح ادا کی۔ جنگ کی ہولناکیوں کے باوجود، شہریوں نے کھنڈرات کے پاس قالین بچھا کر اپنی عبادات جاری رکھیں، اور امن و صبر کے لیے دعائیں کیں۔

تباہی کے باوجود عبادات کا تسلسل

عظیم عمری مسجد – غزہ کی سب سے بڑی اور قدیم مسجد، جس کا مینار تباہ ہو چکا ہے اور عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
غزہ کے ایک امام بلال ال لحم کا کہنا ہے کہ "آج، ہم ملبے کے درمیان اپنے عقیدے کو تھامے ہوئے ہیں اور امن کی امید کے ساتھ دعا کر رہے ہیں۔”

مساجد اور انسانی بحران پر اثرات

1,100 سے زائد مساجد مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔
1.5 ملین فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں، بنیادی سہولیات کی شدید قلت ہے۔

سیاسی اور قانونی پیش رفت

اسرائیل کو بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) میں نسل کشی کے الزامات کا سامنا ہے۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے اعلیٰ اسرائیلی حکام کے جنگی جرائم کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

لچک اور امید کا پیغام

تباہی کے باوجود، فلسطینیوں کا حوصلہ اور ایمان ناقابل تسخیر ہے۔
غزہ کے شہری مشکلات کے باوجود رمضان کی عبادات جاری رکھتے ہوئے لچک اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

یہ رمضان غزہ کے لیے آزمائشوں کا مہینہ ہے، لیکن ایمان اور استقامت کی طاقت نے ثابت کیا ہے کہ جنگ کی راکھ میں بھی امید کے چراغ روشن رہتے ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.