سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ایک شاہی فرمان جاری کرتے ہوئے مملکت کے عدالتی نظام میں اہم تبدیلیوں کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت 212 ججوں کی تقرری اور ترقی عمل میں لائی گئی ہے۔
سعودی وزارتِ انصاف کے مطابق یہ جج مختلف عدالتی اداروں اور عدالتوں میں خدمات انجام دیں گے۔ اس حوالے سے سعودی وزیر انصاف ڈاکٹر ولید الصمعانی، جو سپریم جوڈیشل کونسل کے قائم مقام سربراہ بھی ہیں، نے کہا کہ یہ تقرریاں اور ترقیاں عدالتی نظام کی استعداد کار کو مزید بہتر بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
انہوں نے بیان میں کہا کہ اس اقدام کا مقصد عدالتی خدمات کے معیار کو بلند کرنا، مقدمات کے فیصلوں کے عمل کو مزید مؤثر بنانا اور انصاف کے حصول کے لیے عدالتوں سے رجوع کرنے والے افراد کے تجربے کو بہتر بنانا ہے۔
ڈاکٹر ولید الصمعانی نے سعودی قیادت کی جانب سے عدالتی شعبے کی مسلسل سرپرستی اور حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ شاہی فرمان مملکت کے عدالتی نظام کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئے تعینات اور ترقی پانے والے جج اپنے فرائض دیانت داری، شفافیت اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ انجام دیں گے اور سعودی عدلیہ کی ترقی میں مثبت کردار ادا کریں گے۔
