یمن میں امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 31 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق، یہ حملے حوثی گروپ کے خلاف کیے گئے، جو حالیہ دنوں میں بحیرہ احمر میں اسرائیل سے منسلک جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دے رہا تھا۔
یہ حملے اس وقت کیے گئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ حوثیوں پر "جہنم برسے گی”۔ دوسری جانب، حوثی گروپ نے غزہ کی مکمل ناکہ بندی کے خلاف ردعمل کے طور پر بحیرہ احمر میں اسرائیل سے منسلک جہازوں پر حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔
امریکی حکام نے ان حملوں کو بین الاقوامی بحری تجارتی راستوں کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیا ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے شہری ہلاکتوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امدادی اداروں نے خطے میں انسانی بحران کے پیش نظر تمام فریقین سے تحمل اور سفارتی حل تلاش کرنے کی اپیل کی ہے۔
بحیرہ احمر میں جاری کشیدگی اور یمن میں امریکی حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں ایک بڑے فوجی تصادم کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ عالمی برادری اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ کئی ممالک فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں۔
