ترکی: اپوزیشن لیڈر کی جیل میں قید استنبول کے میئر سے ملاقات، احتجاج میں شدت
ترکی میں جاری ملک گیر احتجاج کے درمیان اپوزیشن جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی (CHP) کے رہنما اوزگور اوزی نے جیل میں قید استنبول کے میئر اکرام امام اوغلو سے ملاقات کی۔یہ ملاقات تقریباً ایک ہفتے سے جاری مظاہروں کے دوران ہوئی، جو امام اوغلو کی گرفتاری کے خلاف ملک بھر میں شدت اختیار کر گئے ہیں۔
19 مارچ کو بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کیے گئے امام اوغلو کو صدر رجب طیب اردگان کے سب سے بڑے سیاسی حریف کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔حکومت کا مؤقف ہے کہ ترکی کی عدلیہ آزادانہ طور پر کام کر رہی ہے، تاہم ناقدین ان الزامات کو سیاسی طور پر محرک قرار دے رہے ہیں۔
CHP نے اعلان کیا ہے کہ استنبول میونسپل کونسل سے ایک قائم مقام میئر مقرر کیا جائے گا، تاکہ حکومت کو ریاستی طور پر نامزد کردہ اہلکار تعینات کرنے سے روکا جا سکے۔
دوسری طرف مظاہروں میں شدت، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں – پولیس نے آنکھوں میں جلن پیدا کرنے والی گیس، پانی کی توپوں اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا۔
حکومت نے احتجاج کی کوریج کرنے والے آٹھ صحافیوں کو بھی حراست میں لے لیا، جس پر میڈیا تنظیموں نے آزادی صحافت پر حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی۔
وزیر داخلہ علی یرلیکایا کے مطابق، "گزشتہ ہفتے سے اب تک 1,133 مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن میں 43 پر بدامنی پھیلانے کا الزام ہے۔”امام اوغلو پر رشوت خوری، بھتہ خوری، بولی میں دھاندلی اور ایک مجرمانہ تنظیم چلانے جیسے سنگین الزامات ہیں، جنہیں وہ مسترد کرتے ہیں۔