ٹرمپ کا امپورٹڈ کاروں پر 25 فیصد ٹیرف، تجارتی جنگ کے خدشات میں اضافہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام غیر ملکی ساختہ گاڑیوں پر 25% ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جو 2 اپریل 2025 سے نافذ ہوگا۔ یہ اقدام موجودہ 2.5% درآمدی ڈیوٹی میں نمایاں اضافہ ہے، جس کا مقصد امریکی آٹو انڈسٹری کو تحفظ دینا ہے، لیکن اس کے عالمی تجارتی کشیدگی میں اضافے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
جرمنی، جاپان، جنوبی کوریا، کینیڈا اور میکسیکو جیسے بڑے کار برآمد کنندگان کے لیے یہ فیصلہ معاشی چیلنج بن سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی صارفین کے لیے گاڑیوں کی قیمتوں میں اوسطاً $12,000 تک اضافہ ہوسکتا ہے، جس سے آٹو انڈسٹری اور معیشت پر اثر پڑے گا۔
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا، "یہ کینیڈین مزدوروں اور صنعتوں پر براہ راست حملہ ہے یورپی یونین نے جوابی ٹیرف پر غور شروع کر دیا ہے، جس سے تجارتی جنگ کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
مالیاتی منڈیوں پر اثر پڑے گا اور آٹو کمپنیوں کے اسٹاکس میں کمی اور امریکی ایکویٹی فیوچرز میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہوگی جبکہ ٹرمپ نے اس فیصلے کو "امریکی صنعتوں کے لیے آزادی کا دن” قرار دیا اور مزید درآمدی اشیاء پر اضافی محصولات کا عندیہ دیا۔