گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی نے 9، آزاد 5، ن لیگ 2 اور ایم ڈبلیو ایم نے ایک نشست جیت لی

گلگت بلتستان اسمبلی کیلئے پولنگ کے بعد غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔

گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کیلئے مختلف پولنگ اسٹیشنوں پر صبح سے ہی ووٹرز کا رش رہا اور لوگ ووٹ ڈالنے کیلئے لمبی قطاروں میں کھڑے رہے، پولنگ بغیر کسی وقفےکے شام 5 بجے تک جاری رہی۔ 

 اب تک 24 میں سے 17 نشستوں کے مکمل  غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق  پاکستان پیپلز پارٹی نے9،  آزاد امیدواروں نے5، مسلم لیگ (ن)  نے 2 اور مجلس وحدت مسلمین نے ایک نشت حاصل کرلی۔

گلگت بلتستان اسمبلی کے حلقہ جی بی اے  1،3،4،5،7،9،10،11،12،19  پر پیپلزپارٹی کامیاب ہوئی جبکہ  جی بی اے 22 اور 18  پر ن لیگ اور جی بی اے 8 پر ایم ڈبلیو ایم  جیتی  اور جی بی اے 3،23،24,21 اور 6  پرآزادامیدوارکامیاب ہوئے۔

 

 

اب تک موصول ہونے والے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج

حلقہ جی بی اے 1 گلگت 1 کے تمام  80 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امجد حسین 10594 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے، پاکستان مسلم ليگ ن کے محمد شفیق الدین 6312 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

حلقہ جی بی اے 2 گلگت 2 کے 91 پولنگ اسٹیشنز میں سے 27 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حفیظ الرحمان 4129 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے جمیل احمد 2695 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

حلقہ جی بی اے 3 گلگت 3 کے تمام 82 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار سید سہیل عباس7877  ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے آفتاب حیدر ایڈووکیٹ 7361 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

حلقہ جی بی اے 4 نگر 1 کے تمام 53 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد علی اختر 7654 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ اسلامی تحریک پاکستان کے محمد ایوب وزیری 6597 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

حلقہ جی بی اے 5 نگر 2  کے تمام 32 پولنگ اسٹیشنز کا غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق  پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی مراد 2705 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے  جبکہ مجلس وحدت مسلمین کے ریاض اکبر 2584 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

حلقہ جی بی اے 6 ہنزہ کے تمام  88 پولنگ اسٹیشنز  کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے  کے مطابق آزاد امیدوار نیک نام کریم 6360 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے  جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امتیاز الحق 5381 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

حلقہ جی بی اے 7 اسکردو 1 کے تمام 31 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سید توقیر مہدی 4337 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے راجہ جلال حسین خان 3891 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

حلقہ جی بی اے 8 اسکردو 2 کے تمام 70 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق مجلس وحدت مسلمین کے محمد کاظم 10474 ووٹ لیکرجیت گئے، پیپلز پارٹی کے سید محمد علی شاہ 10118 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

حلقہ جی بی اے 9 اسکردو 3 کے تمام 54 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے فدا محمد ناشاد 6314 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ آزاد امیدوار وزیر محمد سلیم 6106 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

حلقہ جی بی اے 10 اسکردو 4 کے  تمام 51 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے  کے مطابق پیپلز پارٹی کے ناصر علی خان 6582 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ  استحکام پاکستان پارٹی کے وزیر محمد خان 4667 ووٹ لےکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

حلقہ جی بی اے 11 کھرمنگ کے تمام 51 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے اقبال حسن 5944 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے  جبکہ پاکستان مسلم ليگن کے سید محسن رضوی 4589 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر  رہے۔

حلقہ جی بی اے12 شگر کے  تمام 71 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق  پیپلز پارٹی کے عمران ندیم 12944 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے  جبکہ اسلامی تحریک پاکستان کے راجہ محمد اعظم خان 8682 ووٹ لےکر دوسرے نمبر پر رہے۔

حلقہ جی بی اے 13 استور 1 کے 57 پولنگ اسٹیشنز میں سے 36 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رانا فرمان علی 4368 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ آزاد امیدوار شاہدہ 4312 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

حلقہ جی بی اے 14 استور 2 کے 51 پولنگ اسٹیشنز میں سے 35 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رانا محمد فاروق 4300 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے شمس الحق لون 3865 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

حلقہ جی بی اے 15 دیامر 1 کے 51 پولنگ اسٹیشنز میں سے 11 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار محمد دلپزیر 1426 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ولی الرحمان 996 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

حلقہ جی بی اے 16 دیامر 2 کے 42 پولنگ اسٹیشنز میں سے 8 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق استحکام پاکستان پارٹی کے عتیق اللہ 1302 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ پاکستان مسلم ليگ (ن) کے محمد انور 1069  ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

حلقہ جی بی اے 17 دیامر 3 کے 46 پولنگ اسٹیشنز میں سے 11 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد نسیم 2244 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ جے یو آئی ایف کے رحمت خالق 1128  ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

حلقہ جی بی اے 18 دیامر 4 کے تمام 34 پولنگ اسٹیشنز میں سے 33 کے  نتیجے کے مطابق  پاکستان مسلم ليگ ن کے کفایت الرحمن 5527 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہے جبکہ  استحکام پاکستان پارٹی کے گلبر خان 5059 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

حلقہ جی بی اے 19 غذر 1 کے تمام  78 پولنگ اسٹیشنز    غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سید جلال شاہ 9613 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ آزاد امیدوار نواز خان ناجی 8210 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

حلقہ جی بی اے 20 غذر 2 کے 69 پولنگ اسٹیشنز میں سے 25 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار صفدر علی شیرازی 2827 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے نذیر احمد 2713 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

حلقہ جی بی اے 21 غذر 3 کے تمام  60 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے آزاد امیدوار امان علی 9938 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد ایوب شاہ 6643 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

حلقہ جی بی اے 22 گھانچے 1 کے تمام 58 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے محمد ابراہیم ثنائی 9308 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے عاشق حسین 8052 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

حلقہ جی بی اے 23 گھانچے 2 کے  تمام 50 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق  آزاد امیدوار انور علی 12117 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے  جبکہ آزاد امیدوار عبد الحمید 4119 ووٹ لےکر دوسرے نمبر پر رہے۔

حلقہ جی بی اے 24 گھانچے 3 کے تمام  46 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار اسد شفیق 8092 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل 5072 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے