وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں عام شہریوں کی ہلاکتیں ناقابل برداشت ہیں۔۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا چھوٹے چھوٹے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں عام شہریوں کی ہلاکتیں برداشت نہیں کریں گے۔۔
کاٹلنگ میں ہونے والے ڈرون حملے میں 10 شہریوں کی ہلا کتوں کے حوالے سے کہا کہ اس انٹیلی جنس آپریشن میں ہمارے 10 بے گناہ شہری جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، شہید ہوگئے، جس کی ہم مذمت کرتے ہیں اور ہماری ذمے داری بھی ہے کہ اپنے شہریوں کو تحفظ دیا جائے۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے جنوب میں سارے اضلاع دہشت گردی کی لپیٹ میں آئےہوئے ہیں، اسی علاقے میں یہ دہشت گرد پائے جاتے ہیں، یہیں دو بڑے دہشت گرد بھی مارے گئے ہیں جن کے سروں کی قیمت مقرر کی گئی تھی۔۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان علاقوں میں جہاں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملتی ہے وہاں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ہوتے رہتے ہیں، اور اس میں فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مل کر کام کرتے ہیں، تاہم اس ( کاٹلنگ آپریشن) انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن سے ہماری حکومت لاعلم تھی اور نہ ہی ہماری پولیس کو پتا تھا، یہ آپریشن خالصتاً وفاقی حکومت کے ماتحت آنے والے اداروں کا تھا۔۔
انہوں نے کہا کہ پہلے بڑے آپریشنز میں کولیٹرل ڈیمیج ہوا ہے اور شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں مگر ان چھوٹے چھوٹے انٹیلی بیسڈ آپریشنز میں عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں تو ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور ہم اسے برداشت بھی نہیں کریں گے۔ یہ ہمارا بالکل واضح پیغام ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ آن بورڈ لیے بغیر اس طرح کے آپریشن کرنا اور پھر اس کے نتائج پر سچائی بیان کرنے کے بجائے پر اس طرح کے بیانات دینا یہ قابل مذمت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں، یہ ہمارے ذمے داری ہے اور ہم اپنی استعاد بھی بڑھا رہے ہیں۔
