پاکستان نے غزہ میں جنگ بندی کی نگرانی کیلئے بہتر اقدامات اور سلامتی کونسل کے وسیع تر سیاسی کردار کا مطالبہ کیا ہے۔۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے قیام امن مشنز نے ممالک کو تنازعات سے امن کی جانب گامزن ہونے اور بدلتے ہوئے پیچیدہ خطرات کا سامنا کرنے میں مدد دی ہے۔
عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں اقوام متحدہ کے قیام امن مشنز کے عسکری سربراہوں کی بریفنگ کے دوران پاکستان کی مستقبل کی وابستگی کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا: “اگلے ہفتے ہم جنوبی کوریا کے اشتراک سے اسلام آباد میں قیام امن وزارتی اجلاس کی تیاری کے لیے ایک اجلاس کی میزبانی کریں گے۔ ہم ڈنمارک اور جنوبی کوریا کے ساتھ مل کر ایک سہ فریقی فورم کے طور پر اس اہم ایجنڈے کو اپنی موجودہ سلامتی کونسل کی مدت کے دوران مرکز میں رکھنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔”
سفیر عاصم نے مؤثر فائربندی کی نگرانی کے لیے بروقت اور مستند معلومات کی فراہمی اور خلاف ورزیوں کی فوری رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا تاکہ چھ موجودہ مشنز سلامتی کونسل کو مؤثر رپورٹنگ فراہم کر سکیں۔
انہوں نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ یقینی بنائے کہ فائربندی صرف عارضی سکون نہ ہو بلکہ اسے سیاسی پیش رفت کے لیے ایک موقع میں بدلا جائے تاکہ امن عمل کو فروغ دیا جا سکے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کے ذریعے تنازعات کا منصفانہ اور پائیدار حل ممکن ہو – اور یہ اصول کونسل کے تمام ایجنڈا آئٹمز پر لاگو ہوتا ہے، بشمول جموں و کشمیر۔
انہوں نے ان 4,423 امن فوجیوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران جان کا نذرانہ دیا، جن میں 181 پاکستانی امن فوجی بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا: "ہم ان کی یاد، بہادری اور خدمت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔”
سفیر عاصم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قیام امن کارروائیوں میں عسکری جزو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اور نیلے ہیلمٹ نہ صرف ان مشنز کا چہرہ ہیں بلکہ ان کا فخر بھی ہیں۔
انہوں نے فائربندی کی نگرانی کو مؤثر بنانے کے لیے مندرجہ ذیل نکات پیش کیے:
- ڈرونز، سیٹلائٹ تصاویر، اور دیگر ریموٹ سینسنگ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے حقیقی وقت میں مؤثر، کم لاگت صورتحال سے آگاہی حاصل کی جائے۔
- علاقائی اور ذیلی علاقائی تنظیموں (مثلاً DRC میں SADC-EAC) سے اشتراک کیا جائے تاکہ قیام امن کی کوششوں کو تقویت دی جا سکے؛ MONUSCO مشرقی کانگو میں فائربندی کی نگرانی میں مدد دے سکتا ہے۔
- بارودی سرنگوں اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (IEDs) جیسے خطرات سے نمٹنے کے لیے خصوصی تربیت اور مربوط حکمت عملی اپنائی جائے؛ امن فوجیوں کو ہیلی کاپٹرز اور آل ٹیرین گاڑیوں سے لیس کیا جائے۔
- امن فوجیوں کو فائربندی کے معاہدوں اور مقامی سیاسی، ثقافتی و سماجی پیچیدگیوں سے متعلق تربیت دی جائے تاکہ وہ مناسب ردعمل دے سکیں۔
- امن فوجیوں پر حملہ کرنے والوں کو سزا دی جائے؛ مختلف مشنز میں حالیہ واقعات اس کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔
سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ اب تک اقوام متحدہ نے 71 قیام امن آپریشنز تعینات کیے ہیں، جنہوں نے وسیع تر کثیر الجہتی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔ اس کے باوجود قیام امن کا اصل بنیادی مقصد – فائربندی کی نگرانی اور مشاہدہ – آج بھی قائم ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی ابتدائی دو مشنز – اقوام متحدہ تنظیم برائے جنگ بندی نگرانی (UNTSO) اور بھارت و پاکستان میں اقوام متحدہ کا فوجی مبصر گروپ (UNMOGIP) – کا ذکر کیا جو اسی مقصد کے تحت قائم کی گئی تھیں اور آج بھی مؤثر ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے فائربندی کی نگرانی نے جموں و کشمیر، گولان کی پہاڑیاں، قبرص، لبنان اور مغربی صحارا جیسے حساس علاقوں میں امن قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بطور غیر جانب دار مبصرین، امن فوجی ایک ابتدائی وارننگ سسٹم اور تنازعات کو بڑھنے سے روکنے کے لیے رکاوٹ کے طور پر کام کرتے ہیں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ تمام فریقین، بشمول میزبان ممالک، کو فائربندی کے شرائط کی سختی سے پابندی کرنی چاہیے اور اقوام متحدہ کے مشنز کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے انہیں رسائی، نقل و حرکت کی آزادی اور آپریشنز کی سہولت دینی چاہیے۔
