آیت اللہ خامنہ ای: "عمان مذاکرات پر فریق مخالف پر شک، لیکن ایران کی اپنی طاقت پر مکمل بھروسہ ہے”
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے عمان کی ثالثی میں جاری مذاکرات پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کی اصل قوت ملک کے اندرونی وسائل، اقتصادی خودمختاری اور عوامی لچک میں ہے، نہ کہ بیرونی سفارتی کوششوں میں۔
"نہ امید، نہ مایوسی – لیکن شک ضرور ہے”
تہران میں اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، خامنہ ای نے کہا "ہم عمان مذاکرات سے نہ بہت زیادہ پر امید ہیں، نہ ہی مایوس، لیکن دوسری جانب سے شک گہرا ہے۔”انہوں نے اسے وزارت خارجہ کی "کئی ذمہ داریوں میں سے ایک” قرار دیتے ہوئے اسے مرکزی حکمت عملی بنانے کے خلاف خبردار کیا۔
جوہری معاہدے (JCPOA) کی غلطیوں سے سیکھنے پر زور
خامنہ ای نے ماضی کے جوہری معاہدے (JCPOA) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "ہم نے قومی مفادات کو مذاکرات کے نتائج سے جوڑنے کی سنگین غلطی کی۔”انہوں نے اس بار پائیدار حکمت عملی اپنانے پر زور دیا تاکہ ایران کی پالیسیاں مذاکرات سے مشروط نہ ہوں۔
"معاشی ترقی کی بنیاد داخلی سرمایہ کاری ہے”
سپریم لیڈر نے زور دیا کہ ایران کو اپنی اقتصادی سلامتی اور خودکفالت پر توجہ دینی چاہیے۔ وزارت اقتصادیات، مرکزی بینک اور متعلقہ ادارے مقامی سرمایہ کاروں کو تحفظ فراہم کریں اور پیداواری شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دیں تاکہ روزگار، ترقی اور بیرونی سرمایہ کاری کی راہیں کھلیں”جب داخلی سرمایہ حرکت میں آئے گا، تو عالمی دلچسپی خود بخود پیچھے آئے گی۔”
انہوں نے تسلیم کیا کہ "پابندیاں ہٹانا ہمارے کنٹرول میں نہیں، لیکن ان کے اثرات کو بے اثر کرنا ہمارے ہاتھ میں ہے۔”
اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت
آیت اللہ خامنہ ای نے غزہ میں اسرائیل کے حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتالوں، صحافیوں، ایمرجنسی ورکرز، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا گیا یہ مظالم صیہونی حکومت کی ظالمانہ فطرت کو عیاں کرتے ہیں۔
انہوں نے مسلم دنیا سے مطالبہ کیا کہ وہ سیاسی، معاشی اور انسانی سطح پر متحد ہو اور عالمی ناانصافیوں کے خلاف اسٹریٹجک ہم آہنگی پیدا کرے۔