اسرائیل نے حملے میں زندہ بچنے والے فلسطینی ڈاکٹر کو 37 دن بعد رہا کر دیا
اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) نے جنوبی غزہ میں مہلک حملے کے دوران حراست میں لیے گئے فلسطینی ڈاکٹر اسد النصرہ کو 37 دن بعد رہا کر دیا ہے۔ ان کی رہائی کی تصدیق فلسطین ریڈ کریسنٹ سوسائٹی (PRCS) نے کی ہے
ڈاکٹر النصرہ کو رہائی کے بعد کمزور اور نحیف حالت میں پایا گیا، جس کے بعد انہیں فوری طور پر خان یونس کے العمل اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ساتھیوں نے ان کا جذباتی استقبال کیا۔
ڈاکٹر النصرہ 23 مارچ کو تل السلطان، رفح میں ہنگامی امدادی قافلے پر اسرائیلی حملے کے بعد لاپتہ ہو گئے تھے۔
اس حملے میں:
- 15 افراد ہلاک ہوئے
- 8 طبی اہلکار شامل تھے
- ایک اقوامِ متحدہ کا بلغاریائی اہلکار بھی جان سے گیا
قافلے میں شامل تمام گاڑیاں واضح طور پر PRCS کے نشانات اور چمکتی لائٹس سے مزین تھیں۔
PRCS اور دیگر ذرائع کی جانب سے جاری کردہ ویڈیوز سے معلوم ہوتا ہے کہ طبی وردی پہنے افراد پر براہِ راست فائرنگ کی گئی۔
ایک ڈاکٹر کے مطابق، اسرائیلی فوج نے لاشوں کو بلڈوز کر کے اجتماعی قبر میں دفن کیا، جب کہ ایمبولینسیں بھی تباہ کر دی گئیں۔
ڈاکٹر النصرہ کی رہائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسرائیل پر بین الاقوامی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ غزہ میں امدادی کارکنوں پر حملوں کی تحقیقات کرے اور جوابدہی کو یقینی بنائے۔