اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات۔۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا پانی پاکستانی عوام کے لیے ریڈ لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔۔ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا اور اسے آبی جارحیت کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول ہے
انہوں نے کہا پہلگام واقعے کے بعد سے ہندوستان کے اشتعال انگیز رویے کے نتیجے میں جنوبی ایشیاء میں موجودہ کشیدگی پر پاکستان کو شدید تشویش ہے۔۔
مودی حکومت نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزام تراشی کی اور بھارت سے جنگ کی مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔۔اس تمام صورتحال میں پاکستان نے انتہائی ذمہ داری سے کام لیا ہے
وزیراعظم نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان کو واقعے سے جوڑنے کی کسی بھی کوشش کو واضح طور پر مسترد کر دیا۔۔ انہوں نے کہا پاکستان نے پیشکش کی ہے کہ پہلگام واقعے کے پس پردہ حقائق کا پتہ لگانے کے لیے بین الاقوامی شفاف، غیر جانبدار اور معتبر تحقیقات کرائی جائیں۔۔
وزیراعظم نے کہا بھارت نے جموں و کشمیر کے تنازعہ سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے میڈیا کے ذریعے پراپیگنڈا شروع کر رکھا ہے جو کہ جنوبی ایشیاء میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے۔
وزیر اعظم نے ایران کے شہر بندر عباس میں ہونے والے المناک دھماکے کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضیاع اور سینکڑوں افراد کے زخمی ہونے پر ایرانی وزیر خارجہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ۔۔۔وزیر اعظم نے اپنے پیاروں کو کھونے والوں کے لیے دعا کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعا کی۔
وزیر اعظم نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور صدر مسعود پیزشکیان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ پاکستان ایران کے ساتھ اپنے تاریخی، گہرے برادرانہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔۔
وزیراعظم نے پاکستان ایران دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور تجارت، توانائی، سرحدی انتظام اور علاقائی رابطوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیراعظم نے خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے ایران کے ساتھ مل کر کام کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیر خارجہ عراقچی نے ایرانی قیادت کی طرف سے وزیر اعظم کو تہنیتی پیغام پہنچایا اور پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے اور جنوبی ایشیاء میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے ایران کے عزم کا اعادہ کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے صدر پیزشکیان کی طرف سے وزیراعظم کو اس سال کے دوران ایران کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت کا بھی اعادہ بھی کیا