حکومت کا آئندہ مالی سال بجٹ میں تنخواہ طبقے کو انکم ٹیکس میں ریلیف دینے کا فیصلہ۔۔
ذرائع کے مطابق انکم ٹیکس چھوٹ کی حد 6 لاکھ روہے سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے سالانہ کی جاسکتی ہے ۔۔ وفاقی کابینہ نے 10 لاکھ روپے تک سالانہ تنخواہ والوں کو انکم ٹیکس سے ریلیف کی تجویز دی ہے
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال تنخواہ دار طبقے کے تمام سلیب پر ریلیف دینے کی تجویز ہے۔۔ تنخواہ دار طبقے کے تمام سلیب پر 2.5 فیصد ریلیف دیا جائے گا
ذرائع نے بتایا کارپوریٹ سیکٹر کے لیے بھی انکم ٹیکس کا ریٹ 2.5 فیصد کم کیا جا سکتا ہے۔۔ سپر ٹیکس آئندہ مالی سال بھی جاری رہے گا
سپر ٹیکس میں بھی 0.5 فیصد کمی کی تجویز ہے۔۔
ماہانہ 50 ہزار کی بجائے 83 ہزار روپے کی آمدن پر انکم ٹیکس استثناء کی تجویز پر بھی حکومت غور کر رہی ہے۔۔
ماہانہ ایک لاکھ روپے تنخواہ پر انکم ٹیکس 5 فیصد سے کم ہوکر 2.5 فیصد تک کم ہو جائے گا۔۔
ذرائع نے بتایا ماہانہ ایک لاکھ 83 ہزار روپے تنخواہ پر انکم ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے کم ہوکر 12.5 فیصد ہوسکتی ہے
ماہانہ 2 لاکھ 67 ہزار روپے تنخواہ پر انکم ٹیکس کی شرح 25 فیصد سے کم ہوکر 22.5 فیصد ہوسکتی ہے۔
ماہانہ 3 لاکھ 33 ہزار روپے تک کی تنخواہ پر انکم ٹیکس کی شرح 30 فیصد کی بجائے 27.5 فیصد ہونے کا امکان ہے۔
ماہانہ 3 لاکھ 33 ہزار روپے سے زائد تنخواہ پر انکم ٹیکس کی شرح 2.5 کم ہوکر 35 فیصد تک کم کر دی جائے گی۔
وزارت خزانہ آئی ایم ایف سے آئندہ بجٹ میں تنخواہ طبقے کو ریلیف دینے کیلئے مذاکرات کرے گی