ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے افزودہ یورینیم سے متعلق امریکی مؤقف میں ممکنہ نرمی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران یا تو اپنا افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرے تاکہ اسے وہاں تباہ کیا جا سکے، یا پھر کسی قابل قبول مقام پر بین الاقوامی نگرانی میں اسے تلف کیا جائے۔
Truth Social پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ترجیحی صورت یہ ہوگی کہ ایران کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے افزودہ یورینیم کو انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی یا کسی متوازی ادارے کی نگرانی میں کسی متفقہ مقام پر ختم کیا جائے۔
امریکی صدر نے اپنی پوسٹ میں دو خاکے بھی شیئر کیے جن میں باراک اوباما اور اپنی ایران پالیسیوں کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی مجوزہ پالیسی اوباما دور کے “تباہ کن معاہدے” سے بالکل مختلف ہوگی۔
ٹرمپ نے مزید کہا: “میں ان لوگوں پر ہنستا ہوں جو ایران کے ساتھ میری ممکنہ ڈیل کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔” انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ یا تو “بہت عظیم اور بامعنی معاہدہ” ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔
