غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے، 38 شہید — جنگ بندی مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل

غزہ — اسرائیل کی جانب سے غزہ پر تازہ فضائی حملوں میں کم از کم 38 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں، جبکہ 80 سے زائد افراد گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف حملوں میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت پر ہوئی ہے جب جنگ بندی مذاکرات ایک نازک اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔

غزہ کے جنوبی شہر خان یونس کے ناصر اسپتال کے مطابق، اتوار کو ہونے والے حملے میں المواسی کے علاقے سے تعلق رکھنے والے 18 افراد شہید ہوئے۔ یہ علاقہ جنگ سے بے گھر شہریوں کے لیے قائم کردہ خیمہ بستیاں ہیں، جہاں ہزاروں افراد انتہائی کسمپرسی میں زندگی گزار رہے ہیں۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق”گزشتہ روز کے دوران اسرائیلی حملوں میں 304 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ خوراک، ادویات اور صاف پانی کی شدید قلت ہے۔”

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اتوار کو واشنگٹن روانہ ہوئے ہیں جہاں وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں جاری جنگ بندی مذاکرات میں شرکت کریں گے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ”فریقین کے درمیان بنیادی نکات پر بات چیت میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، مگر مستقل جنگ بندی کے لیے ابھی کئی رکاوٹیں باقی ہیں۔”

اقوام متحدہ اور دیگر عالمی امدادی ادارے مسلسل غزہ میں تباہ کن انسانی بحران سے خبردار کر رہے ہیں۔ غذائی اجناس، صاف پانی، ایندھن، اور بنیادی طبی سہولیات کی شدید قلت سے لاکھوں فلسطینی متاثر ہو چکے ہیں۔

یو این آر ڈبلیو اے کے مطابق”شہری علاقوں پر بمباری سے بچوں، خواتین اور ضعیف افراد کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ بین الاقوامی برادری کو فوری اقدام کرنا ہوگا۔”

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے