اسلام آباد میں "پاکستان میں موسمیاتی چیلنجز” کے موضوع پر سیمینار منعقد کیا گیا۔۔
ماہرین نے کہا کہ ہم اس وقت دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی کے مرکز پر ہیں۔۔ پاکستان اس خطرناک صورتِ حال سے سب سے زیادہ متاثر ممالک میں شامل ہے۔۔۔۔ یہ وقت ہے کہ ہم موسمیاتی تبدیلی جیسے مسئلے پر فوری ردعمل ظاہر کریں
سال 2022 نے ہمیں واضح اشارہ دے دیا کہ ہم اس بگڑتی ہوئی صورتحال کی طرف جا رہے ہیں۔۔ بین الاقوامی اداروں کو لگتا ہے کہ ہم اس مسئلے سے مطمئن ہیں کیونکہ نہ ہم نے اس پر کام کیا، نہ کوئی واضح پالیسی مرتب کی۔۔ ہمیں اس سمت میں اسٹریٹجک انداز میں آگے بڑھنا ہوگا۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک سائنسی مسئلہ ہے۔۔۔ اسٹریٹجک اور فکری خلا کو پُر کرنا ضروری ہے۔۔ قدرتی آفت جیسی کوئی چیز نہیں، موسم درحقیقت موسمیاتی تبدیلی کی علامت ہے۔۔ ہمیں ماحولیاتی چیلنجز کا بھی سامنا ہے
ماہرین نے سیمینار سے خطاب میں کہا کہ ہم عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی سے متعلق روابط تو بناتے ہیں، لیکن اندرون ملک ناکام ہیں۔۔ ہم سب کو مل کر اس مسئلے سے نمٹنا ہوگا۔۔۔ بین الاقوامی سطح پر موسمیاتی کمٹمنٹ نہایت ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کے پاس حل موجود ہیں، جیسے کہ قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع۔۔ ہر میٹنگ میں موسمیاتی تبدیلی کو ایجنڈے کا حصہ بنانا چاہیے، اور یہ دیکھنا چاہیے کہ ہم اس کے لیے بجٹ میں کیا مختص کر رہے ہیں۔۔ محکمہ موسمیات پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی کی اشد ضرورت ہے۔
سیمنار میں ماہرین نے کہا پاکستان میں حرارت اور آلودگی کے اخراج کا گراف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔۔۔ سوات کا سانحہ ہمارے لیے ایک وارننگ تھا، جس پر این ڈی ایم اے نے الرٹ کیا اور ردعمل ضرور دیا، مگر ناکافی تھا۔۔ پرانے طریقہ کار اب کارآمد نہیں رہے، 40 ڈگری درجہ حرارت پر ہنگامی صورتحال کا اعلان ہونا چاہیے۔۔۔ سوات کا دریا اب "ریور آف نو ریٹرن” بن چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق موسم، الرٹ اور ریسکیو سروسز اس لیے ناکام ہو رہی ہیں کیونکہ لوگ ابھی تک موسمیاتی تبدیلی کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔۔ جب چیلنج آتا ہے تو ادارے آپس میں کنکٹ نہیں کر پاتے، حتیٰ کہ ریسکیو کے ذمہ دار ادارے بھی فوری ردعمل نہیں دے پاتے۔۔ ہم اب تک الزام تراشی میں مصروف ہیں، سوالات کے بجائے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے
اقوامِ متحدہ کے مطابق بروقت وارننگ دینا انسانی حقوق میں شامل ہے۔۔۔ جو تباہی آپ کی طرف بڑھ رہی ہے، اس کے پیمانے کو سمجھنا ضروری ہے۔ کلائمیٹ چینج دراصل موسمیاتی تبدیلی کی نشانی ہے
