سیلاب متاثرین دوہری مشکل میں، نفسیاتی اور وبائی امراض کا شکار ہونے لگے

خیبرپختونخوا میں تاریخ کے بدترین سیلاب سے کئی خاندان اجڑ گئے۔ گھر پانی میں بہہ گئے۔ نہ رہنے کو گھر ہے اور نہ کھانے کو روٹی۔۔ کئی خاندانوں کے درجنوں افراد سیلاب میں ڈوب گئے۔۔ کسی کی لاش ملی تو کوئی ابھی تک کیچڑ اور ملبے میں اپنے پیاروں کو تلاش کر رہا ہے۔۔

نہ جیب میں پیسے ہیں اور نہ پیارے اس دنیا میں رہے۔۔ ایسے میں ہزاروں افراد نفسیاتی مسائل کا شکار ہو گئے۔ خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔۔

ابھی اس مشکل سے نکلے نہیں تھے کہ خیبرپختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھوٹ پڑے۔

محکمہ صحت کی کے مطابق سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں وبائی امراض تیزی سے پھوٹ پڑے ہیں اور ایک لاکھ 64 ہزار مریضوں کا اب تک علاج معالجہ کیا جاچکا ہے۔

ہیضہ، ڈینگی، ملیریا، سانس اورجلد کی بیماریاں بھی تیزی سے پھیل رہی ہیں اور بونیر سمیت 11 اضلاع میں ہیضہ کے 2 ہزار 506 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں 116 خونی ہیضے والے مریض بھی شامل ہیں جبکہ ایک ہزار 112 مریضوں کا علاج کیا گیا۔

لوئر دیر میں ہیضہ کےسب سے زیادہ 823، سوات میں 591، بونیر 319 اور باجوڑ میں ہیضہ کے 262 کیسز سامنےآئے، دیر اپر میں 226، بٹگرام154اور شانگلہ میں ہیضہ کے 168، مانسہرہ میں 39،صوابی 18 اور تورغر میں ہیضہ کے13 مریضوں کا علاج کیاگیا۔

دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ شانگلہ میں ملیریا کے 80، دیرلوئر16، سوات14، تورغر11 اور دیراپر میں جبکہ 2 صوابی میں ڈینگی کے8، دیرلوئر6 اور باجوڑ میں ایک کیس سامنےآیا۔

رپورٹ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں خارش، دانوں سمیت جلدی امراض کےمریضوں میں اضافہ ہوا ہے، تورغرمیں172، دیرلوئرمیں125، بونیرمیں117، شانگلہ میں 128، بٹگرام میں83 اورباجوڑ میں جلدی امراض کے4 اور دیرلوئر میں ایک مریض رپورٹ ہوا۔

دستاویز کے مطابق سیلاب زدہ علاقوں میں نزلہ ، زکام اور سانس کی بیماریاں بھی پھیلنے لگیں، متاثرہ 9 اضلاع میں مجموعی طور پر 2 ہزار 245 مریض رپورٹ ہوئے اور ایک ہزار 413 مریضوں کو علاج کی سہولت فراہم کی گئی۔

دستاویز مطابق دیرلوئرمیں 736، سوات703، شانگلہ359، بٹگرام217 اورصوابی میں103کیسز سامنے آئے۔

 متاثرہ علاقوں میں سانپ اور کتوں کے کاٹنے کے 35 سے زائد واقعات پیش آئے۔

اس حوالے سے سیکرٹری صحت شاہد اللہ نے جیو نیوز کو بتایا کہ سیلاب سےمتاثرہ علاقوں میں محکمہ صحت کی ٹیمیں اورموبائل اسپتال موجود ہیں اور اب تک ایک لاکھ 64 ہزار سے زیادہ مریضوں کو طبی امداد فراہم کی جاچکی ہے جبکہ سانپ اور کتےسےکاٹنےکی ویکیسنزمتاثرہ علاقوں میں بھجوادی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سیلاب سےمتاثرہ اضلاع میں نفسیاتی امراض میں بھی اضافہ ہوا ہے اور ماہرین نفسیات پر مشتمل ٹیمیں بھی سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں موجود ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے