ایرانی خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف مسلح افواج کی کارروائیاں روک دی گئی ہیں، جبکہ لبنان کے عوام کی حمایت میں صہیونی ریاست کو مؤثر اور دردناک جواب دیا جا چکا ہے۔
ایرانی فوجی کمان کے جاری کردہ بیان کے مطابق جنوبی لبنان اور بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے الضاحیہ پر اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں ایران نے مخصوص فوجی کارروائیاں انجام دیں، جن کے بعد آپریشنز کو فی الحال ختم کر دیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو ایرانی ردعمل سے سبق سیکھنا چاہیے۔ تاہم اگر مستقبل میں دوبارہ جارحیت یا اشتعال انگیزی کا سلسلہ جاری رہا تو ایران پہلے سے کہیں زیادہ شدید، وسیع اور تباہ کن اقدامات کرے گا۔
اس سے قبل ایرانی پاسداران انقلاب نے شمالی اسرائیل میں واقع اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ پاسداران انقلاب کے مطابق اسرائیل کی نیوتم اور تل نوف ایئر بیسز پر بیلسٹک میزائل حملے کیے گئے، جو ایران میں ریڈار تنصیبات پر ہونے والے حملوں کا جواب تھے۔
خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج نے مقبوضہ علاقوں میں متعدد حساس اور اسٹریٹجک اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دشمن کو بھاری مالی اور عسکری نقصان اٹھانا پڑا۔
انہوں نے امریکا اور اسرائیل کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور خطے کی مزاحمتی قوتیں کسی بھی دباؤ، دھمکی یا فوجی دباؤ کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کریں گی۔ اگر ایران یا مزاحمتی محاذ کے خلاف مزید کارروائیاں کی گئیں تو اس کا جواب کہیں زیادہ سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔
