یورپی یونین نے آبنائے ہرمز میں مداخلت کے الزام پر ایران کی بحری سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عائد کر دیں

یورپی یونین نے پہلی مرتبہ اپنے نئے پابندیوں کے نظام کو بروئے کار لاتے ہوئے ایران کے خلاف تازہ پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ ان پابندیوں کا ہدف ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ سے وابستہ ایک یونٹ اور دو اعلیٰ عہدیداران ہیں، جن پر آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری ٹریفک کی آزادانہ نقل و حرکت میں خلل ڈالنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق یورپی یونین نے ایرانی پاسداران انقلاب بحریہ کی صوبہ ہرمزگان میں قائم کمانڈ کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ اس کے علاوہ پاسداران انقلاب بحریہ کے نائب کمانڈر محمد اکبر زادہ اور ایک اور اہلکار حامد حسینی پر بھی انفرادی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

یورپی یونین کا مؤقف ہے کہ متعلقہ افراد اور ادارے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری جہازوں کی محفوظ اور آزادانہ آمد و رفت کے لیے خطرات پیدا کرنے والی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ یورپی حکام کے مطابق یہ اقدامات عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی چین کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب یورپی یونین نے سمندری سلامتی اور عالمی بحری گزرگاہوں کے تحفظ کے لیے متعارف کرائے گئے نئے قانونی اختیارات کے تحت ایران کے خلاف پابندیاں نافذ کی ہیں۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران اس علاقے میں کشیدگی اور بحری سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث مغربی ممالک اور ایران کے درمیان تناؤ برقرار ہے۔

یورپی یونین کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال، ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور عالمی توانائی منڈیوں کے استحکام سے متعلق خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے