آسٹریلیا نے ایران پر یہودی دشمن حملوں کا الزام لگاتے ہوئے سفیر کو ملک بدر کر دیا

آسٹریلیا نے خلیجی دفاع کے لیے فوجی مدد کا اعلان، ایران میں تعیناتی سے انکار

آسٹریلیا نے ایران پر اپنے شہروں میں دو سام دشمن (یہودی مخالف) آتش زنی کے حملوں کی منصوبہ بندی اور ہدایت دینے کا الزام لگاتے ہوئے تہران کے سفیر کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام دوسری جنگِ عظیم کے بعد پہلی بار کسی سفیر کو آسٹریلیا سے نکالنے کا واقعہ ہے۔

وزیراعظم انتھونی البانی نے کینبرا میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلوی سیکیورٹی ایجنسی ASIO نے قابلِ اعتبار انٹیلی جنس اکٹھی کی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایران نے کم از کم دو حملوں کی ہدایت کی تھی۔

انہوں نے کہا:“یہ غیر معمولی اور خطرناک جارحانہ کارروائیاں تھیں جو آسٹریلیا کی سرزمین پر ایک غیر ملکی ریاست نے کیں۔ ان کا مقصد ہماری سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا اور برادریوں میں تفرقہ ڈالنا تھا۔”

  • سڈنی کے ایک کوشر ریسٹورنٹ اور میلبورن کی اداس اسرائیل عبادت گاہ کو نشانہ بنایا گیا۔
  • دونوں حملوں میں جانی نقصان نہیں ہوا لیکن املاک کو شدید نقصان پہنچا۔
  • عبادت گاہ کو لگائی گئی آگ نے لاکھوں ڈالر کا نقصان کیا۔

آسٹریلیا کا سخت ردعمل

  • آسٹریلوی حکومت نے اعلان کیا کہ ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے گا۔
  • وزیر خارجہ پینی وونگ کے مطابق ایرانی سفیر احمد صادقی اور تین دیگر اہلکاروں کو سات دن میں ملک چھوڑنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
  • کینبرا میں ایران کا سفارت خانہ فوری طور پر تبصرہ کرنے سے گریزاں رہا۔
  • آسٹریلیا نے تہران میں اپنا سفارت خانہ بند کر دیا ہے اور تمام اہلکار تیسرے ملک منتقل کر دیے گئے ہیں۔

اسرائیل اور یہودی برادری کا ردعمل

آسٹریلیا میں اسرائیلی سفارت خانے نے حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ“ایران نہ صرف یہودیوں اور اسرائیل کے لیے خطرہ ہے بلکہ یہ آسٹریلیا سمیت آزاد دنیا کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔”

آسٹریلین جیوری کی ایگزیکٹو کونسل (ECAJ) کے صدر ڈینیل آگیان نے کہا“یہ حملے آسٹریلیا کی خودمختاری پر حملہ تھے، جنہوں نے جان بوجھ کر یہودی کمیونٹی کو نشانہ بنایا اور ہماری عبادت گاہ کو تباہ کیا۔”

پس منظر

  • دسمبر میں میلبورن کی عبادت گاہ کو آگ لگانے کے الزام میں دو افراد پر مقدمہ درج کیا جا چکا ہے۔
  • پولیس مزید تحقیقات کر رہی ہے اور مشتبہ افراد سے ضبط شدہ الیکٹرانک آلات کا جائزہ لے رہی ہے۔
  • آسٹریلیا میں تقریباً 90 ہزار ایرانی نژاد افراد رہائش پذیر ہیں۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان بارہ روزہ فضائی جنگ ہوئی تھی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے