واشنگٹن — امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ فلسطینی اتھارٹی (PA) کے صدر محمود عباس اور تقریباً 80 اعلیٰ فلسطینی عہدیداروں کو آئندہ ماہ ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) اجلاس میں شرکت سے روک دے گا۔ اس فیصلے کی تصدیق امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینئر اہلکار نے ٹائمز آف اسرائیل سے گفتگو میں کی، جو فلسطینی قیادت پر واشنگٹن کے دباؤ میں ایک نمایاں اضافہ ہے۔
محکمہ خارجہ کے مطابق یہ اقدام اوسلو معاہدے سے منسلک امریکی قانون کی مبینہ خلاف ورزیوں اور دہشت گردی سے نمٹنے کے وعدوں کی خلاف ورزی پر کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ ابتدائی اعلان میں کسی کا نام ظاہر نہیں کیا گیا تھا، لیکن بعد ازاں حکام نے واضح کیا کہ صدر عباس خود بھی ان پابندیوں میں شامل ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ رام اللہ کی جانب سے جاری "بین الاقوامی قانون سازی کی مہم” کا ردعمل ہے، جس میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) اور بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) میں اپیلیں اور فلسطینی ریاست کو یکطرفہ تسلیم کرانے کی کوششیں شامل ہیں۔ واشنگٹن کے مطابق ایسے اقدامات اوسلو معاہدے کے تحت طے شدہ امن عمل کو نقصان پہنچاتے ہیں، جو یکطرفہ کارروائی کے بجائے براہِ راست مذاکرات پر زور دیتا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا"امریکہ پرعزم ہے کہ تمام فریق نیک نیتی سے کیے گئے معاہدوں کی پاسداری کریں۔ بین الاقوامی ٹربیونلز کے ذریعے مذاکرات کو نظر انداز کرنا متفقہ اصولوں کے خلاف ہے۔”
یہ پابندی حالیہ برسوں میں عباس کے خلاف سب سے سخت سفارتی قدم تصور کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ فیصلہ امریکہ–فلسطین تعلقات کو مزید کشیدہ بنا سکتا ہے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے قبل عرب اور مسلم اکثریتی ممالک کی جانب سے شدید ردعمل کو جنم دے سکتا ہے۔
