ٹورنٹو: کینیڈا کے صوبے کیوبیک نے عوامی مقامات جیسے پارکوں اور سڑکوں پر نماز پڑھنے پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جس نے شہری حقوق کی تنظیموں اور مذہبی گروپوں کی جانب سے شدید تنقید کو جنم دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مذہبی آزادی اور مساوات کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔
یہ اعلان صوبائی وزیر برائے سیکولرازم ژاں فرانکوئس روبرج نے کیا، جنہوں نے دعویٰ کیا کہ مونٹریال میں "سڑکوں پر نماز کے بڑھتے ہوئے رجحان” کو روکنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس موسمِ خزاں میں اس سلسلے میں باضابطہ قانون سازی کی جائے گی۔
کیوبیک کے پریمیئر فرانسوا لیگلٹ نے کہا کہ عوامی پارکوں اور سڑکوں پر نماز پڑھنے کا عمل صوبے کی سیکولر اقدار کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق”نماز کا تعلق چرچ یا مسجد میں ہے، عوامی جگہوں پر نہیں۔ ہم کیوبیک میں اس روایت کو پروان نہیں چڑھانا چاہتے۔”
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مونٹریال میں فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہروں میں اجتماعی دعاؤں نے بحث کو مزید بھڑکا دیا تھا۔ شہری حقوق کی تنظیموں نے اسے مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلم کمیونٹی، کو نشانہ بنانے کے مترادف قرار دیا ہے۔
- کینیڈین مسلم فورم نے کہا کہ حکومت کو ذاتی مذہبی طریقوں پر پابندی لگانے کے بجائے سماجی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔
- کینیڈین سول لبرٹیز ایسوسی ایشن (CCLA) نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ پابندی مذہب، اظہارِ رائے اور پرامن اجتماع کی آزادی پر براہِ راست قدغن ہے۔
اس معاملے پر سیاسی جماعتوں میں بھی اختلاف پیدا ہوگیا ہے۔
- پارٹی کیوبیکوئس کے رہنما پال سینٹ پیئر پلیمونڈن نے اسے "مذہبی بنیاد پرستوں کی جانب سے عوامی جگہ کا ناجائز استعمال” قرار دیا۔
- سابق سینیٹر آندرے پریٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ ماضی میں کیتھولک عوامی دعاؤں پر پابندی عائد نہیں ہوئی، لہٰذا اس قانون کا ہدف بالخصوص مسلمان نظر آتے ہیں
کیوبیک کی حکومت پہلے بھی 2019 میں متنازعہ بل 21 منظور کر چکی ہے، جس کے تحت سرکاری اہلکاروں کو مذہبی علامات پہننے سے منع کیا گیا تھا۔ اگرچہ عدالت نے اس قانون کو مذہبی آزادی کے خلاف قرار دیا، لیکن صوبے نے آئینی شق کا استعمال کرتے ہوئے اسے برقرار رکھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عوامی نماز پر پابندی کا نیا منصوبہ ایک بار پھر اس سوال کو زندہ کرتا ہے کہ سیکولرازم اور بنیادی انسانی آزادیوں کے درمیان حد کہاں کھینچی جائے۔
