واشنگٹن / شرم الشیخ — امریکا نے وہ مکمل "امن اعلامیہ” جاری کر دیا ہے جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، مصری صدر عبدالفتاح السیسی، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے دستخط کیے تھے۔
یہ اعلامیہ شرم الشیخ امن سربراہی اجلاس میں اس وقت طے پایا جب اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے تاریخی معاہدے کے بعد عالمی رہنماؤں نے پائیدار امن کے لیے اتفاق کیا۔
اعلامیے کے آغاز میں دستخط کنندگان نے کہا کہ: “ہم، زیر دستخط، ٹرمپ امن معاہدے کے لیے تمام فریقین کی حقیقی تاریخی وابستگی کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ یہ دو سالہ تباہ کن جنگ کے خاتمے اور مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے، پُرامن باب کے آغاز کی علامت ہے۔”
رہنماؤں نے اس امر پر زور دیا کہ غزہ میں جنگ کا خاتمہ اور دیرپا امن کا قیام صرف اس صورت میں ممکن ہے جب تمام فریق امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مشترکہ عزم دکھائیں۔
بنیادی نکات
-
فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے بنیادی انسانی حقوق اور وقار کے تحفظ کی ضمانت دی گئی۔
-
انتہا پسندی اور بنیاد پرستی کو ہر صورت میں ختم کرنے کا عہد کیا گیا۔
-
تعلیم، باہمی احترام، اور مساوی مواقع کو پائیدار امن کی بنیاد قرار دیا گیا۔
-
مستقبل کے تنازعات کو طاقت کے بجائے سفارتکاری اور مذاکرات سے حل کرنے پر اتفاق۔
-
خطے میں تمام مذاہب — اسلام، عیسائیت اور یہودیت — کے مقدس مقامات کے احترام اور تحفظ کی یقین دہانی۔
-
ایک ایسا جامع علاقائی فریم ورک تشکیل دینے کا وعدہ جس سے خطے میں معاشی اور سماجی ترقی ممکن ہو۔
اعلامیے کے آخر میں کہا گیا “ہم خطے میں امن، سلامتی اور مشترکہ خوشحالی کے ایک جامع وژن پر کاربند رہیں گے۔ یہ ہمارا عہد ہے کہ آنے والی نسلوں کو امن، وقار اور ترقی کا مستقبل فراہم کیا جائے۔”
