ٹوکیو — جاپان کے سابق وزیر اعظم ٹومیچی مرایاما، جنہوں نے دوسری جنگِ عظیم کے دوران جاپان کی جنگی جارحیت اور نوآبادیاتی مظالم پر تاریخی معافی نامہ جاری کیا تھا، 101 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
جاپان کی سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ میزوہو فوکوشیما کے مطابق، مرایاما کا انتقال جمعہ کے روز جنوب مغربی جاپان کے شہر اوئٹا کے ایک ہسپتال میں ہوا، جہاں وہ طویل علالت کے بعد زیرِ علاج تھے۔
ٹومیچی مرایاما نے 15 اگست 1995 کو جاپان کی دوسری جنگِ عظیم میں غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کی 50ویں سالگرہ کے موقع پر ایک تاریخی معافی نامہ جاری کیا تھا، جو بعد میں "مرایاما اسٹیٹمنٹ” کے نام سے مشہور ہوا۔
اس بیان میں انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ "جاپان نے ماضی میں اپنی نوآبادیاتی پالیسیوں اور جنگی جارحیت کے ذریعے بہت سے لوگوں کو بے پناہ نقصان اور تکلیف پہنچائی، جس پر ہمیں گہرا پچھتاوا اور دلی معذرت ہے۔”
یہ بیان بعد میں جاپان کی جنگی تاریخ پر ریاستی موقف کی بنیاد بن گیا اور 2000 کی دہائی تک تمام وزرائے اعظم نے اس کی توثیق جاری رکھی، تاہم قوم پرست وزیر اعظم شنزو آبے نے 2013 میں اس روایت کو ختم کر دیا۔
مرایاما جون 1994 سے جنوری 1996 تک جاپان کے وزیر اعظم رہے، جب انہوں نے جاپان سوشلسٹ پارٹی کی قیادت میں ایک مخلوط حکومت قائم کی۔ ان کا دورِ اقتدار مختصر لیکن تاریخی تھا، کیونکہ انہوں نے جاپان کی جنگی ماضی سے متعلق سرکاری معافی کو ریاستی پالیسی کی حیثیت دی۔
انہوں نے جاپانی قانون سازوں میں موجود ان قوم پرست حلقوں پر بھی سخت تنقید کی جو دوسری جنگِ عظیم کے دوران جاپان کے مظالم، خصوصاً جبری جسم فروشی (Comfort Women) کے واقعات کو جھٹلانے یا کمزور کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
مرایاما نے بارہا زور دیا کہ جنگ کے وقت کے سرکاری ریکارڈز کی کمی جاپان کی اخلاقی ذمہ داری کو ختم نہیں کرتی، اور یہ کہ متاثرہ خواتین کو انصاف اور عزت دلانا جاپان کی بین الاقوامی ساکھ کا تقاضا ہے۔
مرایاما کو جاپان کے اُن چند رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے تاریخی سچائی کو تسلیم کرنے کی اخلاقی جرات دکھائی۔ ان کا ’مرایاما بیان‘ آج بھی ایشیائی ممالک — خصوصاً چین اور جنوبی کوریا — کے ساتھ جاپان کے تعلقات کے تناظر میں ایک اہم سفارتی حوالہ سمجھا جاتا ہے۔
جاپان بھر میں سیاسی رہنماؤں، دانشوروں اور عام شہریوں نے مرایاما کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ بہت سے تبصروں میں انہیں ایک ’’ضمیر کے رہنما‘‘ کے طور پر خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے، جنہوں نے ماضی کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کی۔
