واشنگٹن — امریکی وزارتِ دفاع (پینٹاگون) نے یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے ٹاماہاک کروز میزائل فراہم کرنے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق، پینٹاگون کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ یوکرین کو ٹاماہاک کروز میزائل دینے کی منظوری وزارتِ دفاع کی سطح پر طے پا چکی ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے امریکی ہتھیاروں کے ذخیرے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
رپورٹس کے مطابق، یوکرین کو ٹاماہاک میزائل فراہم کرنے کا حتمی فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔ ان کی منظوری کے بعد یہ میزائل باضابطہ طور پر یوکرین کے حوالے کیے جائیں گے۔
روس نے اس فیصلے پر شدید اعتراض کیا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے صدر ٹرمپ سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان میزائلوں کی فراہمی سے ماسکو اور سینٹ پیٹرز برگ جیسے بڑے شہروں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
پیوٹن کے مطابق، یہ اقدام روس-امریکا تعلقات میں نئی کشیدگی پیدا کر سکتا ہے۔
"ٹاماہاک کروز میزائل” کی مار 1,000 میل (تقریباً 1,600 کلومیٹر) تک ہے۔
یہ میزائل بحری جہازوں اور آبدوزوں سے داغا جا سکتا ہے اور انتہائی درستگی کے ساتھ اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
امریکی دفاعی اہلکاروں نے بتایا کہ اس میزائل کی تعیناتی، آپریشنل تربیت اور تکنیکی تیاری سے متعلق معاملات ابھی زیرِ غور ہیں۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ان میزائلوں کی فراہمی کی درخواست کی تھی تاکہ روس کے توانائی اور انفراسٹرکچر اہداف کو نشانہ بنایا جا سکے۔
