یورپی رہنماؤں نے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے نئی سفارتی کوششوں کی حمایت کر دی

برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے رہنماؤں نے یوکرین اور روس کے درمیان جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی ایک نئی تجویز کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد طویل عرصے سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے سفارتی راستہ تلاش کرنا ہے۔

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر، جرمن چانسلر فریڈرک مرز اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ایک مشترکہ بیان میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی اس تجویز کو سراہا جس میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی پیشکش کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یورپ اور امریکہ کی فعال شمولیت اس عمل کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہوگی۔

مشترکہ بیان میں تینوں یورپی رہنماؤں نے کہا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور یوکرین کی جانب سے امن کے لیے دی جانے والی کوششوں کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہیں۔ رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی ممکنہ امن معاہدے میں یوکرین کی سلامتی اور خودمختاری کو بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔

یورپی رہنماؤں کے مطابق جنگ بندی کا آغاز فوری اور مکمل فائر بندی سے ہونا چاہیے، جبکہ بعد کے مرحلے میں ایک جامع امن معاہدے کی طرف پیش رفت کی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ جنگی محاذ کی موجودہ لائن کو ابتدائی مذاکراتی بنیاد بنایا جائے۔

مزید تجاویز میں یہ بھی شامل ہے کہ یوکرین کو مضبوط سیکیورٹی ضمانتیں دی جائیں، ممکنہ طور پر ایک کثیر القومی فورس کی صورت میں، جبکہ روسی اثاثوں کو اس وقت تک منجمد رکھا جائے جب تک ماسکو جنگ کے نقصانات کی تلافی نہیں کرتا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے