ٹرمپ انتظامیہ کو لاکھوں امریکیوں کے لیے فوڈ اسٹامپ (SNAP) فوائد معطل کرنے سے روک دیا گیا

ٹرمپ انتظامیہ کو لاکھوں امریکیوں کے لیے فوڈ اسٹامپ (SNAP) فوائد معطل کرنے سے روک دیا گیا

واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکی وفاقی عدالتوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ وہ حکومت کے شٹ ڈاؤن کے دوران بھی کم آمدنی والے امریکیوں کے لیے فوڈ اسٹامپ (SNAP) کی ادائیگیاں جاری رکھے۔

جمعے کے روز دو مختلف وفاقی ججوں نے الگ الگ مقدمات میں ہنگامی احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ملک کے سب سے بڑے انسدادِ بھوک پروگرام کے فنڈز معطل کرنے سے روکا جائے، تاکہ لاکھوں امریکی خوراک کی کمی اور مالی مشکلات کا شکار نہ ہوں۔

پروویڈنس، رہوڈ آئی لینڈ میں امریکی جج جان میک کونل نے حکم دیا کہ امریکی محکمہ زراعت (USDA) فوڈ اسٹامپ ادائیگیوں کو معطل نہیں کر سکتا۔
اسی وقت میساچوسٹس میں ایک اور وفاقی جج اندرا تلوانی نے فیصلہ دیا کہ حکومت کو SNAP پروگرام کے لیے فنڈز فراہم کرنے ہوں گے، چاہے وہ ہنگامی فنڈز کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔

ججوں کے مطابق، یہ پروگرام کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے خوراک کی فراہمی کا بنیادی ذریعہ ہے اور اس کی معطلی سے کروڑوں امریکی متاثر ہوں گے۔

SNAP (Supplemental Nutrition Assistance Program) — جسے فوڈ اسٹامپ بھی کہا جاتا ہے — ہر ماہ تقریباً 4 کروڑ 20 لاکھ امریکیوں کی مدد کرتا ہے۔
یہ پروگرام حکومت کو ماہانہ 8.5 تا 9 ارب ڈالر کا خرچ پڑتا ہے، تاہم امریکی محکمہ زراعت نے دعویٰ کیا تھا کہ شٹ ڈاؤن کے باعث اس کے پاس مکمل ادائیگی کے لیے فنڈز موجود نہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عدالتی فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے Truth Social پر کہا “میں نہیں چاہتا کہ امریکی صرف اس لیے بھوکے رہیں کیونکہ ریڈیکل ڈیموکریٹس حکومت کو دوبارہ کھولنے سے انکار کر رہے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ “میں نے اپنے وکلاء کو ہدایت دی ہے کہ وہ عدالت سے رہنمائی حاصل کریں تاکہ ہم جلد از جلد SNAP کو قانونی طور پر فنڈ کر سکیں۔ اگر ہمیں فوری اجازت مل جاتی ہے تو فنڈ فراہم کرنا میرے لیے باعثِ فخر ہوگا۔”

مدعیان — جن میں کئی امریکی ریاستیں، شہری حکومتیں اور غیر منافع بخش تنظیمیں شامل ہیں — نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ USDA کے پاس پہلے سے 5.25 ارب ڈالر کے ہنگامی فنڈز موجود ہیں جنہیں فوری طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مزید یہ کہ ایک علیحدہ فنڈ میں 23 ارب ڈالر کی رقم بھی موجود ہے جس سے پروگرام کو مکمل طور پر فعال رکھا جا سکتا ہے۔

جج تلوانی نے انتظامیہ کو پیر تک مہلت دی ہے کہ وہ واضح کرے آیا وہ نومبر کے فوائد جزوی طور پر ادا کرے گی یا مکمل فنڈز فراہم کرے گی۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ فوڈ اسٹامپ ڈیبٹ کارڈز کی ری لوڈنگ میں ایک سے دو ہفتے لگ سکتے ہیں، لہٰذا امریکی عوام کو فوری ریلیف ملنے میں وقت لگ سکتا ہے۔

فیصلے کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اپیل دائر کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے