امریکی ٹی وی پروگرام کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے پینٹاگون کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایٹمی تجربات دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کرے۔ ان کے مطابق، "شمالی کوریا، پاکستان اور دیگر ممالک ایٹمی تجربات کر رہے ہیں، مگر وہ انہیں خفیہ رکھتے ہیں۔ ہمیں بھی اب مزید خاموش نہیں رہنا چاہیے۔”
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کے پاس اتنا بڑا ایٹمی ذخیرہ موجود ہے جو "دنیا کو 150 بار تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے”۔ تاہم، ان کے بقول، ایٹمی صلاحیت کی جانچ کے لیے تجربات ضروری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ موجودہ ہتھیار کس حد تک مؤثر ہیں۔
انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے واضح انداز میں کہا "روس اور چین تجربات کر رہے ہیں مگر خاموشی سے۔ ہم واحد ملک ہیں جو ایسا نہیں کر رہے — اور میں نہیں چاہتا کہ ہم واحد ملک رہیں جو ایٹمی تجربات نہ کرے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ہمیشہ سے ایک شفاف جمہوری معاشرہ رہا ہے، جو اپنے فیصلے عوام کے سامنے رکھتا ہے۔ "اگر دوسرے ممالک خفیہ طور پر تجربات کر رہے ہیں تو امریکہ کے لیے یہ خطرہ ہے کہ وہ پیچھے رہ جائے۔ ہمیں بھی اپنی قومی سلامتی کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔”
ابھی تک پاکستان کے دفتر خارجہ نے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا۔ تاہم ماہرینِ بین الاقوامی تعلقات کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے یہ بیانات نہ صرف امریکہ کی ایٹمی عدم پھیلاؤ پالیسی (Non-Proliferation Policy) پر سوال اٹھاتے ہیں بلکہ یہ دنیا بھر میں جاری ہتھیاروں کی دوڑ کو مزید ہوا دے سکتے ہیں۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر امریکہ نے واقعی ایٹمی تجربات دوبارہ شروع کیے تو اس کے اثرات جوہری ہتھیاروں کے عالمی معاہدے (Comprehensive Nuclear-Test-Ban Treaty – CTBT) پر بھی پڑ سکتے ہیں، جس سے عالمی امن کی کوششوں کو شدید دھچکا لگے گا۔
واشنگٹن کے اسٹریٹجک اسٹڈیز انسٹیٹیوٹ سے وابستہ ماہر ڈاکٹر لیون کارٹر کے مطابق "ٹرمپ کا یہ بیان ایٹمی طاقتوں کے درمیان عدم اعتماد میں اضافہ کرے گا۔ اگر امریکہ نے تجربات دوبارہ شروع کیے تو روس، چین، اور شاید بھارت سمیت دیگر ممالک بھی اپنے پروگراموں کو تیز کر دیں گے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا پہلے ہی یوکرین جنگ، مشرق وسطیٰ کے تنازعات اور ایشیائی کشیدگی کی لپیٹ میں ہے، ایسے میں ایٹمی تجربات کی نئی لہر عالمی نظام کے لیے "انتہائی خطرناک موڑ” ثابت ہو سکتی ہے۔
