استنبول اجلاس کا اعلامیہ: غزہ کا نظم و نسق فلسطینیوں کے سپرد کیا جائے

استنبول اجلاس کا اعلامیہ: غزہ کا نظم و نسق فلسطینیوں کے سپرد کیا جائے

استنبول — ترکیہ میں منعقد ہونے والے سات مسلم ممالک کے اعلیٰ سطح اجلاس میں متفقہ طور پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ غزہ کا سیاسی و انتظامی نظم و نسق فلسطینیوں کے سپرد کیا جائے، جبکہ اسرائیل سے فوری جنگ بندی کی مکمل پاسداری اور انسانی امداد کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے پر زور دیا گیا ہے۔

غزہ کی تازہ ترین صورتحال کے تناظر میں استنبول میں ہونے والا یہ اجلاس ترکیہ کے وزیرِ خارجہ حقان فیدان کی میزبانی میں منعقد ہوا، جس میں پاکستان، سعودی عرب، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ یا نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں غزہ کی جنگ بندی، انسانی بحران، اور آئندہ سفارتی اقدامات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اعلامیے کی اہم شقیں

1. غزہ کا نظم و نسق فلسطینیوں کے سپرد کرنے پر مکمل اتفاق

تمام شریک ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ کا انتظام کسی بیرونی طاقت کے بجائے مقامی فلسطینی اتھارٹی کے پاس ہونا چاہیے، تاکہ فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

2. جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش

اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی افواج کی جانب سے جنگ بندی کے باوجود حملے جاری ہیں جن میں اب تک تقریباً 250 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ شریک ممالک نے اسے بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔

3. انسانی امداد کی فوری اور بلا تعطل فراہمی کا مطالبہ

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کم از کم 600 امدادی ٹرک اور 50 ایندھن بردار گاڑیاں فوری طور پر غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے تاکہ انسانی المیہ کم کیا جا سکے۔

4. بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام پر مشاورت

اعلامیے میں تجویز دی گئی کہ غزہ میں ایک غیر جانب دار بین الاقوامی استحکام فورس (Stabilization Force) تعینات کی جائے جو جنگ بندی کی نگرانی اور امدادی سرگرمیوں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔

5. فلسطینی انتظامیہ کی اصلاحی کوششوں کی حمایت

شریک ممالک نے فلسطینی قیادت کی اصلاحی کوششوں، عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے امن منصوبوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں وزیرِ خارجہ حقان فیدان نے کہا“اسرائیل جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ اعلانِ جنگ بندی کے بعد سے 250 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ اگر انسانی امداد کی راہیں نہ کھلیں تو غزہ میں انسانی المیہ ناقابلِ برداشت ہو جائے گا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ترکیہ اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ عارضی جنگ بندی کو پائیدار امن میں بدلا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اجلاس اسلامی دنیا کے متحدہ مؤقف کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس سے غزہ کے مستقبل کے سیاسی انتظام پر عالمی مباحثے کو نئی سمت مل سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس فورم کی تجاویز پر عمل ہوتا ہے تو یہ غزہ میں طویل مدتی استحکام اور فلسطینی خود مختاری کے لیے سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے