برسلز — تائیوان کے نائب صدر بائی کھِم ہسیاؤ (Bi-Khim Hsiao) نے یورپی پارلیمنٹ کی عمارت میں بین الاقوامی قانون سازوں سے خطاب کرتے ہوئے یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ چین کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر تائیوان کے ساتھ سلامتی، تجارت اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے قریبی تعاون کو فروغ دے۔
ہسیاؤ نے اپنے خطاب میں کہا کہ “تائیوان میں امن عالمی استحکام اور معاشی تسلسل کے لیے ناگزیر ہے، اور طاقت کے ذریعے جمود میں تبدیلیوں کے خلاف عالمی مزاحمت انتہائی اہم ہے۔”
یہ خطاب چین پر مرکوز ایک خصوصی کانفرنس کے دوران ہوا، جس نے بیجنگ کو سخت ناراض کر دیا۔
چین میں یورپی یونین کے مشن نے ہفتے کے روز یورپی پارلیمنٹ پر تنقید کی کہ اس نے “تائیوان کی آزادی کے حامی عناصر کو اپنی عمارت میں علیحدگی پسند سرگرمیاں کرنے کی اجازت دی”۔
چینی حکام کے مطابق یہ اقدام “ایک چین” کے اصول کی خلاف ورزی ہے اور یورپ کو اس کے نتائج پر غور کرنا چاہیے۔
اگرچہ یورپی یونین کے تائیوان کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں، تاہم دونوں کے درمیان جمہوری اقدار اور تجارتی روابط مضبوط ہیں۔
ہسیاؤ نے یورپی ممالک، خصوصاً جرمنی اور اسپین کے قانون سازوں سے کہا کہ وہ قابلِ اعتماد سپلائی چینز، مصنوعی ذہانت (AI) اور سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی میں تائیوان کے ساتھ تعاون بڑھائیں۔
انہوں نے کہا کہ یورپ اور تائیوان کو “اعتماد، شفافیت اور جمہوری اقدار پر مبنی ایک مشترکہ ٹیکنالوجی ماحولیاتی نظام” قائم کرنا چاہیے۔
ہسیاؤ کا یہ دورہ چین پر بین الپارلیمانی اتحاد (IPAC) کی میزبانی میں منعقد ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس کا حصہ تھا، جس میں 50 سے زائد قانون ساز شریک ہوئے۔
سیکیورٹی خدشات کے باعث اس دورے کو خفیہ رکھا گیا، کیونکہ گزشتہ سال جمہوریہ چیک میں ہسیاؤ پر مبینہ چینی ایجنٹوں کی نگرانی اور دھمکیوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو طاقت کے ذریعے ضم کرنے کی دھمکی دیتا رہتا ہے۔
تائیوان کے صدر لائی چِنگ تے نے حال ہی میں دفاعی اخراجات کو 2030 تک جی ڈی پی کے 5 فیصد تک بڑھانے اور فضائی دفاعی نظام "ٹی ڈوم” کی تعمیر تیز کرنے کا اعلان کیا تھا۔
تھنک ٹینک چتھم ہاؤس کے ماہرین کے مطابق تائیوان پر کسی ممکنہ تنازعے کے اثرات یورپ کے لیے یوکرین جنگ سے کہیں زیادہ تباہ کن ہو سکتے ہیں، کیونکہ عالمی سیمی کنڈکٹر سپلائی چین میں تائیوان کا کلیدی کردار ہے۔
