تیونس: تیسرے اپوزیشن لیڈر نے جیل میں بھوک ہڑتال شروع کر دی

0

تیونس – تیونس میں قید اسلام پسند جماعت النہضہ کے سربراہ اور سابق پارلیمانی اسپیکر راشد غنوشی نے "غیر منصفانہ قید” کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔ ان کے وکلا کے مطابق 84 سالہ غنوشی نے یہ قدم دو دیگر اپوزیشن رہنماؤں کی حمایت میں اٹھایا ہے جو پہلے ہی اسی احتجاج میں شریک ہیں۔

غنوشی نے اپوزیشن سیاست دان جوہر بن مبریک اور ریپبلکن پارٹی کے رہنما عصام شبعی کے بعد بھوک ہڑتال شروع کی۔ بن مبریک ایک ہفتے سے "جنگلی بلی” بھوک ہڑتال پر ہیں، جب کہ شبعی نے جمعہ کو احتجاجاً کھانا پینا چھوڑ دیا۔

راشد غنوشی کو 2023 سے حراست میں رکھا گیا ہے اور انہیں ریاست کے خلاف سازش اور غیر ملکی فنڈنگ کے الزامات پر 37 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ انہوں نے عدالت میں پیش ہونے سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ’’میں ان ججوں کے سامنے پیش نہیں ہوں گا جو صدر قیس سعید کے حکم پر عمل کرتے ہیں۔‘‘

انسانی حقوق کی تنظیموں اور غنوشی کے وکلا کا کہنا ہے کہ تیونس کی جیلوں میں قید سیاسی رہنماؤں کی صحت تیزی سے خراب ہو رہی ہے، خاص طور پر بن مبریک کی حالت تشویشناک ہے۔ تاہم، جیل حکام نے ان اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام قیدیوں کی حالت "معمول اور مستحکم” ہے۔

رواں سال عدالتوں نے بن مبریک اور شبعی سمیت متعدد اپوزیشن رہنماؤں کو "ریاستی سلامتی کے خلاف سازش” کے الزامات میں پانچ سے 66 سال تک قید کی سزائیں سنائی تھیں۔

اپوزیشن جماعتوں کا مؤقف ہے کہ صدر قیس سعید نے 2021 میں پارلیمنٹ تحلیل کر کے تیونس کو "کھلی جیل” بنا دیا ہے اور عدلیہ کو آمرانہ حکومت کے آلے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
دوسری جانب سعید کا کہنا ہے کہ ان کے اقدامات ملک کو "برسوں کی بدعنوانی اور افراتفری” سے نکالنے کے لیے ضروری تھے، اور انہوں نے اپوزیشن رہنماؤں کو ’’غدار‘‘ اور ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.