قازقستان کی پارلیمنٹ نے "LGBT پروپیگنڈے” کے خلاف قانون منظور کر لیا
آستانہ – قازقستان کی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں نے آن لائن اور میڈیا میں ’ایل جی بی ٹی پروپیگنڈے‘ پر پابندی عائد کرنے کا قانون منظور کر لیا۔
قانون کے مطابق اس کی خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانے عائد کیے جائیں گے جبکہ دوبارہ جرم کرنے والوں کو 10 دن تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
یہ قانون روس، ہنگری اور جارجیا میں نافذ کیے گئے اسی نوعیت کے قوانین سے مماثلت رکھتا ہے۔ بل کو اب قازق سینیٹ میں بھیجا جائے گا جہاں اس کے منظور ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
صدر قاسم جومارت توکایف، جن کے دستخط کے بعد یہ بل قانون بن جائے گا، حالیہ مہینوں میں بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ حکومت روایتی خاندانی اقدار کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
پارلیمنٹ میں قانون سازوں نے، جن میں اکثریت صدر توکایف کی وفادار جماعتوں سے تعلق رکھتی ہے، اتفاقِ رائے سے بل کے حق میں ووٹ دیا۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس قانون پر شدید تنقید کی ہے۔ بیلجیئم میں قائم انٹرنیشنل پارٹنرشپ فار ہیومن رائٹس نے کہا کہ یہ اقدام قازقستان کے بین الاقوامی انسانی حقوق کے وعدوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
اکثریتی مسلم لیکن بڑی حد تک سیکولر معاشرے پر مشتمل ملک قازقستان میں ہم جنس پرستی کو 1990 کی دہائی میں قانونی حیثیت دی گئی تھی، تاہم معاشرتی رویے اب بھی انتہائی قدامت پسند ہیں۔
قازق وزیرِ تعلیم گانی بیسمبایف نے بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ “بچے اور نوجوان روزانہ آن لائن ایسی معلومات سے متاثر ہوتے ہیں جو خاندان، اخلاقیات اور مستقبل کے بارے میں ان کے خیالات کو منفی طور پر بدل سکتی ہیں۔”