ڈھاکہ — بنگلہ دیش کے عبوری سربراہِ حکومت محمد یونس نے اعلان کیا ہے کہ ملک ریاستی اصلاحات کے لیے تیار کردہ ’جولائی چارٹر‘ پر عمل درآمد کے سلسلے میں قومی ریفرنڈم کرائے گا۔ یہ اقدام گزشتہ سال طلبہ کی قیادت میں ہونے والی ہلاکت خیز بغاوت کے بعد کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو ملک چھوڑ کر بھارت فرار ہونا پڑا تھا۔
یونس نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ پارلیمانی انتخابات فروری میں منعقد کیے جائیں گے اور وہ ’’آزادانہ، منصفانہ اور شفاف‘‘ ہوں گے۔ ان کے بقول، ’’بنگلہ دیش کو ایک نئے آئینی اور جمہوری دور میں داخل ہونا ہے جس کی بنیاد اصلاحات اور عوامی فیصلہ سازی پر ہوگی۔‘‘
’جولائی چارٹر‘ ملک کی سیاست، اداروں اور آئینی ڈھانچے کو از سرِ نو تشکیل دینے کی کوشش ہے اور اس میں 2024 کی بغاوت کو آئینی حیثیت دینے کی شق بھی شامل ہے۔
اکتوبر میں زیادہ تر سیاسی جماعتوں نے اس چارٹر کی توثیق کی تھی، تاہم نیشنل سٹیزن پارٹی (NCP) — جو بغاوت کے رہنماؤں اور بائیں بازو کی جماعتوں پر مشتمل ہے — نے بائیکاٹ کیا۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ چارٹر میں کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کے لیے قانونی فریم ورک یا ضمانتی اقدامات شامل نہیں۔
چارٹر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ بنگلہ دیش میں ادارہ جاتی اصلاحات کی بنیاد فراہم کرے گا، تاہم ناقدین اسے محض علامتی اقدام قرار دیتے ہیں، جس کی مؤثر عمل داری کے لیے پارلیمانی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے۔
