ویانا میں آئی اے ای اے بورڈ اجلاس: ایران کے جوہری پروگرام پر مغربی دباؤ برقرار، پابندیوں کیلئے نئی قرارداد کی تیاری

0

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس آسٹریا کے شہر ویانا میں جاری ہے، جہاں 35 رکن ممالک کے نمائندے جوہری تحفظ، حفاظتی معاہدوں اور دیگر تکنیکی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ اجلاس بدھ سے شروع ہوا اور جمعہ کو اختتام پذیر ہوگا۔

شائع شدہ ایجنڈے کے مطابق اجلاس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 یا جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (JCPOA) سے متعلق کسی شق کو شامل نہیں کیا گیا، اور ایران کا ذکر صرف حفاظتی معاہدے کے سیکشن تک محدود ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے جے سی پی او اے سے متعلق معاملات کو باضابطہ طور پر بورڈ کے ایجنڈے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

یہ پیشرفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب جے سی پی او اے، جو 2015 کے ایران جوہری معاہدے کا سرکاری نام ہے، رواں سال 18 اکتوبر کو ختم ہو چکا ہے، جبکہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کا دس سالہ مینڈیٹ بھی اسی تاریخ کو اختتام پذیر ہوا۔ مینڈیٹ کی میعاد ختم ہونے کے بعد آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل پر ایران کے جے سی پی او اے وعدوں سے متعلق رپورٹس جمع کرانے کی ذمہ داری بھی ختم ہو گئی ہے۔

اس کے باوجود سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور فرانس (E3) اجلاس میں ایران کے خلاف ایک نئی قرارداد پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مجوزہ مسودہ ایران کی جوہری سرگرمیوں پر نئی پابندیوں اور ایران کے جوہری مواد کے ذخیرے سے متعلق مسلسل رپورٹنگ کا مطالبہ کرتا ہے۔ یہ مسودہ آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی کی حالیہ رپورٹ کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے، جس میں ایران کے اعلان کردہ جوہری مواد تک "فوری رسائی” کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ اسنیپ بیک میکانزم فعال ہونے کے بعد ایران کو افزودگی، ری پروسیسنگ، تحقیق و ترقی اور بھاری پانی سے متعلق سرگرمیاں معطل کرنا لازمی ہے۔

دوسری جانب ویانا میں ایران کے مستقل مشن نے اس مجوزہ قرارداد کو "سیاسی دباؤ” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور یورپی ممالک "ایک سنگین غلطی” کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ مشن کے مطابق ایسے اقدامات نہ صرف بورڈ آف گورنرز کو سیاسی بنانے کی کوشش ہیں بلکہ یہ رویہ ان ممالک کے لیے کسی فائدے کا باعث نہیں بنے گا۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.