اسرائیل و امریکا کے تعاون سے قائم غزہ ہیومنیٹیرین فاؤنڈیشن نے مشن مکمل ہونے پر کام بند کر دیا
تل ابیب – اسرائیل اور امریکا کی حمایت یافتہ غزہ ہیومنیٹیرین فاؤنڈیشن نے غزہ کی پٹی میں اپنے مشن کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق تنظیم نے بیان میں کہا کہ اس نے غزہ میں اپنا ہنگامی مشن کامیابی سے مکمل کر لیا، جس کے تحت ایک ریکارڈ انسانی آپریشن کے دوران علاقے کے شہریوں کو 187 ملین سے زائد مفت کھانے فراہم کیے گئے، تاکہ فلسطینی خاندانوں تک محفوظ اور فوری غذائی امداد پہنچائی جا سکے۔
فاؤنڈیشن نے مئی میں اس وقت غزہ میں خوراک کی فراہمی کا کام سنبھالا تھا جب اسرائیل نے بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں پر سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ تاہم اقوام متحدہ کے ماہرین، امدادی اداروں اور مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس کے کردار پر شدید تنقید کی اور اس کی سرگرمیوں پر سوالات اٹھائے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر کے مطابق امدادی مراکز پر تقسیم کے دوران اسرائیلی فائرنگ سے سینکڑوں فلسطینی شہید ہوئے، جس پر عالمی حلقوں کی جانب سے گہری تشویش ظاہر کی گئی۔
اگست میں اقوام متحدہ کے عہدیداروں نے اس فاؤنڈیشن کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ تنظیم خفیہ فوجی اور سیاسی مقاصد کے تحت کام کر رہی ہے۔ متعدد خدشات کے باوجود اسرائیل کی جانب سے اس فاؤنڈیشن کو تباہ حال علاقے میں اقوام متحدہ اور متعلقہ اداروں کے متبادل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جاتی رہی۔