اسرائیلی فورسز کا شمالی مغربی کنارے میں وسیع آپریشن، طوباس شہر کا محاصرہ

0

اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے بدھ کے روز شمالی مغربی کنارے میں بڑے پیمانے پر وہ آپریشن شروع کیا جسے فوج نے انسدادِ دہشت گردی کارروائی قرار دیا ہے، جبکہ فلسطینی حکام کے مطابق اس کارروائی کا مرکز طوباس شہر ہے۔ طوباس کے گورنر احمد الاسد نے بتایا کہ اسرائیلی فورسز ہیلی کاپٹر کی فضائی مدد کے ساتھ شہر کا گھیراؤ کیے ہوئے ہیں اور کئی محلوں میں پوزیشنیں سنبھال چکی ہیں۔

گورنر کے مطابق دراندازی طویل ہوتی جا رہی ہے، فورسز نے متعدد شہریوں کو گھروں سے نکال دیا ہے، عمارتوں کی چھتوں پر قبضہ کر لیا ہے اور گرفتاریاں بھی جاری ہیں۔ شہریوں کو حکم دیا گیا ہے کہ آپریشن مکمل ہونے تک وہ گھروں کو واپس نہ جائیں، جبکہ حکام کو خدشہ ہے کہ کارروائی کئی دن جاری رہ سکتی ہے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کے اشتراک سے یہ کارروائی بدھ کی صبح شروع کی گئی، تاہم فوجی ترجمان نے مزید تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ معلومات جلد جاری کی جائیں گی۔

اسرائیل کا مؤقف ہے کہ مغربی کنارے میں عسکریت پسندی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جہاں 2.7 ملین فلسطینی محدود خود مختاری کے تحت رہتے ہیں اور ان کے درمیان لاکھوں اسرائیلی آباد کار موجود ہیں۔ جنوری میں جینن سے شروع ہونے والا فوجی آپریشن اب شمالی مغربی کنارے کے مختلف شہروں تک پھیل چکا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی بے دخل ہوئے ہیں اور کئی علاقوں میں فورسز کی طویل ترین تعیناتی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

حالیہ کارروائی پر حماس نے شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اسرائیلی فورسز کی کارروائیوں پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے رواں ماہ اسرائیل پر جبری بے دخلی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات عائد کیے، جنہیں اسرائیل مسترد کرتا ہے۔

مغربی کنارے میں گزشتہ چند مہینوں کے دوران تشدد میں اضافہ ہوا ہے اور اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں کے باعث فلسطینی برادریوں کو شدید متاثر ہونا پڑا ہے۔ دوسری جانب 7 اکتوبر کے حملے کے بعد اسرائیل نے مغربی کنارے میں نقل و حرکت مزید محدود کر دی ہے، نئی چوکیاں قائم کی گئی ہیں اور بعض علاقوں کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.