امریکی شہر نیو یارک سٹی میں اسرائیل کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت اور فوجی حمایت کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس نے درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
مظاہرے میں شامل گروپ جیوش وائس فار پیس نے دعویٰ کیا ہے کہ تقریباً 90 افراد کو حراست میں لیا گیا، تاہم پولیس کی جانب سے سرکاری طور پر حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد واضح نہیں کی گئی۔
گرفتار افراد میں سابق امریکی فوجی اہلکار اور وکی لیکس کے ذریعے معروف ہونے والی چیلسی میننگ بھی شامل تھیں۔
مظاہرین نے امریکی حکومت کی جانب سے اسرائیل کو فراہم کی جانے والی فوجی امداد، غزہ میں جاری جنگ اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خلاف نعرے بازی کی۔
مظاہرین نے “بمباری بند کرو”، “قتل عام بند کرو” اور “فری فلسطین” جیسے نعرے لگاتے ہوئے جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
رپورٹس کے مطابق احتجاج کے دوران شہری آزادیوں اور حکومتی پالیسیوں پر بھی بحث شدت اختیار کر گئی ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے مظاہرے امریکا میں خارجہ پالیسی پر عوامی دباؤ میں اضافے کی علامت ہیں۔

