IRGC کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاست قرار دینا ’غیر قانونی اور سیاسی اقدام‘ہے: ایران

0

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارتِ خارجہ نے آسٹریلیا کی جانب سے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC) کو مبینہ طور پر "دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاست” قرار دینے کے اقدام پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے اسے جارحانہ، بلاجواز اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

جمعرات کے روز جاری بیان میں ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ آسٹریلوی حکومت کا یہ فیصلہ ’’ایک خطرناک اور مجرمانہ نظیر‘‘ ہے جسے اسرائیلی حکومت کے زیرِ اثر تیار کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق اس اقدام کا مقصد غزہ میں جاری انسانی بحران اور مبینہ نسل کشی سے عالمی توجہ ہٹانا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ اقدام ایسے الزامات پر مبنی ہے جنہیں خود آسٹریلوی ادارے بے بنیاد قرار دے چکے ہیں۔
بیان میں یاد دہانی کرائی گئی کہ نیو ساؤتھ ویلز پولیس نے 25 اکتوبر 2025 کو واضح طور پر تسلیم کیا تھا کہ آسٹریلیا میں یہودی اہداف کے خلاف کارروائیوں میں ایران کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔

وزارتِ خارجہ نے کہا کہ آسٹریلیا نے اسرائیلی بیانیے کی بنیاد پر ایران–آسٹریلیا کے طویل سفارتی تعلقات کو ’’سادہ سیاسی سودے بازی‘‘ کا ذریعہ بنا دیا ہے۔

بیان میں سپاہ پاسداران انقلاب کو ایران کی سرکاری مسلح افواج کا قابلِ احترام حصہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ IRGC نے ملک کے دفاع، علاقائی سلامتی اور داعش سمیت دہشت گرد گروہوں کے خلاف جنگ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
ایران نے اعلان کیا کہ وہ اپنی مسلح افواج کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

آسٹریلیا نے حال ہی میں IRGC کو "دہشت گردی کی ریاستی سرپرستی” کرنے والی تنظیم قرار دے دیا ہے، جسے ایران نے بین الاقوامی قانونی اصولوں کے خلاف ’’سنگین غلطی‘‘ قرار دیا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.