“تیسری دنیا سے نقل مکانی مستقل طور پر روکیں گے” — امریکی امیگریشن پالیسی میں بڑی تبدیلیوں کا عندیہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امیگریشن پالیسی میں سخت تبدیلیوں کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ "تیسری دنیا کے تمام ممالک” سے نقل مکانی کو مستقل طور پر روکنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ وہ ’’تیسری دنیا‘‘ سے کیا مراد لیتے ہیں اور نہ ہی اس پابندی کے نفاذ کے طریقہ کار کی تفصیل فراہم کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں منظور ہونے والے کیسز کو بھی متاثر کرے گا۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان میں ٹرمپ نے کہا “میں تیسری دنیا کے تمام ممالک سے ہجرت کو مستقل طور پر روک دوں گا تاکہ امریکی نظام کو بحال کیا جا سکے… اور ہر اس شخص کو نکال باہر کروں گا جو امریکہ کا خالص اثاثہ نہیں ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ:
-
غیر شہریوں کے لیے تمام وفاقی مراعات اور سبسڈی ختم کر دی جائیں گی۔
-
ایسے تارکینِ وطن کو غیر فطری (denaturalize) کیا جائے گا جنہیں داخلی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جائے۔
-
ایسے غیر ملکی افراد جو ’’عوامی بوجھ‘‘ ہوں یا ’’مغربی تہذیب سے مطابقت نہ رکھتے ہوں‘‘، انہیں ملک بدر کیا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس اور یو ایس سی آئی ایس نے رائٹرز کی جانب سے تبصرہ مانگنے پر کوئی جواب نہیں دیا۔
ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈ کے ایک اہلکار کی افغان باشندے کے حملے میں ہلاکت کی تحقیقات جاری ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مبینہ حملہ آور کو 2025 میں ٹرمپ انتظامیہ کے دوران امریکا میں پناہ دی گئی تھی۔
اس واقعے کے بعد امریکی حکام نے:
-
بائیڈن دور میں منظور کیے گئے سیاسی پناہ کے کیسز کا وسیع جائزہ لینے کا حکم دیا ہے۔
-
19 ممالک کے شہریوں کو جاری کردہ گرین کارڈز کی بھی دوبارہ چھان بین ہوگی۔
-
یو ایس سی آئی ایس نے تمام افغان شہریوں کی امیگریشن درخواستوں کی کارروائی غیر معینہ مدت تک روک دی ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ان نئی پالیسیوں کا بنیادی ہدف امریکا میں ‘‘غیر قانونی اور خلل ڈالنے والی آبادی’’ میں نمایاں کمی لانا ہے۔