اقوامِ متحدہ کی انسدادِ تشدد کمیٹی کا اسرائیل سے غیر جانبدار تحقیقاتی کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ
اقوام متحدہ – اقوامِ متحدہ کی انسدادِ تشدد کمیٹی نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل–فلسطین تنازع کے دوران سامنے آنے والے تشدد اور بدسلوکی کے تمام الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد، غیر جانبدار اور مؤثر کمیشن تشکیل دیا جائے تاکہ ذمہ داروں، بشمول سینئر افسران، کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔
العربیہ کے مطابق کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ جاری مسلح تنازع میں تشدد کے واقعات کی شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔ کمیٹی نے فلسطینی عسکری تنظیموں کی جانب سے 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسرائیلی ردعمل کی غیر متناسب نوعیت پر بھی گہری تشویش ظاہر کی۔
نومبر کے وسط میں کمیٹی کے مقرر کردہ نمائندے پیٹر فیڈیل کیسنگ نے متعدد ذرائع سے موصول ہونے والی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینیوں، خصوصاً بچوں اور کمزور گروہوں، کے ساتھ منظم اور وسیع پیمانے پر تشدد اور بدسلوکی کی علامات سامنے آئی ہیں۔ اقوام متحدہ کے اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کی رپورٹس میں شدید مار پیٹ، جنسی اعضاء پر ضربیں، بجلی کے جھٹکے، طویل دباؤ والی پوزیشنوں پر مجبور کرنا، غیر انسانی حالات میں رکھنا، بھوکا رکھنا، پانی میں ڈبونے اور جنسی ہراسانی کی دھمکیوں جیسے واقعات کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔
کمیٹی نے مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد اور انتظامی حراست کے غیر معمولی استعمال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ پوچھ گچھ کے دوران غیر اعلانیہ ’’خصوصی ذرائع‘‘ کے استعمال کی اجازت کو بھی خطرناک قرار دیا گیا۔
انسدادِ تشدد کمیٹی نے اسرائیل پر زور دیا کہ تشدد کو الگ فوجداری جرم کے طور پر قانون میں شامل کرے، ’’خصوصی ذرائع‘‘ کی نوعیت سے متعلق معلومات فراہم کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ کسی بھی غیر معمولی صورتحال کو تشدد یا بدسلوکی کے جواز کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔
کمیٹی کے سامنے پیش کیے گئے جواب میں اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر اور وفد کے شریک سربراہ ڈینیئل میرون نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اسرائیل اپنی اقدار اور اخلاقی اصولوں کے مطابق اپنے وعدوں پر کاربند ہے۔