کرپشن کیس: شیخ حسینہ اور اسکی بہنوں شیخ ریحانہ اور ٹیولپ صدیق کو قید کی سزائیں
ڈھاکہ کی سپیشل جج کورٹ نمبر 4 نے سرکاری رہائشی پلاٹس کی مبینہ غیرقانونی الاٹمنٹ سے متعلق ہائی پروفائل کرپشن کیس میں سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ، ان کی بہن شیخ ریحانہ اور برطانوی رکنِ پارلیمنٹ ٹیولپ صدیق کو مختلف مدت کی سزائیں سنائی ہیں۔
عدالتی فیصلے کے مطابق شیخ حسینہ کو 5 سال، شیخ ریحانہ کو 7 سال جبکہ ہیمسٹیڈ اینڈ کلبرن کی ایم پی ٹیولپ صدیق کو 2 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔ ٹیولپ صدیق اور شیخ ریحانہ دونوں پر ایک لاکھ بنگلہ دیشی ٹکا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے، جس کی عدم ادائیگی پر انہیں مزید 6 ماہ کی سادہ قید بھگتنی ہوگی۔
مقدمہ سرکاری پورباچال نیو ٹاؤن پروجیکٹ میں مبینہ طور پر اثر و رسوخ اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے ذریعے پلاٹس کی الاٹمنٹ سے متعلق تھا۔ اینٹی کرپشن کمیشن نے یہ کیس 13 جنوری کو درج کیا تھا۔ کل 17 ملزمان پر فردِ جرم عائد کی گئی تھی، جن میں سے وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ پبلک ورکس اور راجُک کے سینیئر افسران سمیت 14 افراد کو بھی 5 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
استغاثہ کے مطابق ٹیولپ صدیق نے برطانوی سیاست میں اپنی حیثیت استعمال کرتے ہوئے اپنی والدہ شیخ ریحانہ، بہن اَزمیرہ صدیق اور بھائی ردوان مجیب کے لیے پورباچال پروجیکٹ میں تین رہائشی پلاٹس حاصل کروائے۔ تاہم موجودہ مقدمے میں صرف شیخ ریحانہ کی الاٹمنٹ شامل تھی، جب کہ اَزمیرہ اور ردوان مجیب سے متعلق الگ کیس زیرِ سماعت ہیں۔
یہ فیصلہ اُن سلسلہ وار مقدمات کا حصہ ہے جو رواں سال عوامی لیگ حکومت کے خاتمے کے بعد شروع ہونے والی تحقیقات میں سامنے آئے۔ شیخ حسینہ اور ان کے اہلِ خانہ پر متعدد کرپشن الزامات لگائے جا چکے ہیں۔ اسی دباؤ کے باعث ٹیولپ صدیق نے 14 جنوری کو برطانوی وزارت خزانہ میں اکنامک سیکریٹری کے عہدے سے استعفیٰ بھی دے دیا تھا، جو اے سی سی کی تحقیقات شروع ہونے کے فوراً بعد سامنے آیا۔