35ویں نیشنل گیمز کھٹائی میں پڑنے کا خدشہ، پاکستان اسپورٹس بورڈ نے سندھ حکومت کو تحفظات سے آگاہ کردیا

0

کراچی میں 6 دسمبر سے شروع ہونے والے 35ویں نیشنل گیمز کے انعقاد پر سوالات کھڑے ہوگئے ہیں، کیونکہ پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) نے سندھ حکومت کو اہم انتظامی تحفظات تحریری طور پر ارسال کردیے ہیں۔

پی ایس بی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر برائے نیشنل فیڈریشنز کی جانب سے سیکرٹری اسپورٹس سندھ کو بھیجے گئے خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ نیشنل گیمز میں صرف حقیقی اور تسلیم شدہ فیڈریشنز کو شامل کیا جائے تاکہ ایونٹ کی شفافیت برقرار رہے۔

غیر قانونی اور غیر تسلیم شدہ فیڈریشنز کی شمولیت پر اعتراض

خط میں پی ایس بی نے کہا ہے کہ کئی مقابلے ایسی باڈیز یا افراد کی زیر نگرانی رکھے گئے ہیں جو نہ پی ایس بی سے منظور شدہ ہیں اور نہ ہی متعلقہ بین الاقوامی فیڈریشن انہیں تسلیم کرتی ہے۔ ان میں چند اہم اعتراضات شامل ہیں:

  • ویٹ لفٹنگ فیڈریشن پر پی ایس بی کی جانب سے پابندی عائد ہے جبکہ انٹرنیشنل فیڈریشن بھی ڈوپنگ خلاف ورزیوں کے باعث اسے تسلیم نہیں کرتی، اس کے باوجود اسے گیمز میں شامل کیا گیا ہے۔

  • بیرونِ ملک مقیم بیس بال کے فخر زمان کا مبینہ طور پر مقابلوں کے انعقاد میں اثر انداز ہونا بھی مسئلے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

  • پاکستان باڈی بلڈنگ فیڈریشن کے پی ایس بی سے منظور شدہ انتخابات کو نظر انداز کرکے ایک غیر تسلیم شدہ باڈی کے تحت مقابلے کرانے پر بھی اعتراض کیا گیا ہے۔

  • ایتھلیٹکس فیڈریشن کے انتخابات کو غیر قانونی قرار دیے جانے کے باوجود نیشنل گیمز کے مقابلے ایک الگ کمیٹی کے ذریعے کروانے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

پی ایس بی کی نظرِ ثانی کی درخواست

پاکستان اسپورٹس بورڈ نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ:

  • معاملات کا فوری جائزہ لیا جائے

  • غیر قانونی اور غیر تسلیم شدہ تنظیموں کی شمولیت ختم کی جائے

  • نیشنل گیمز میں صرف قانونی فیڈریشنز اور ان کے آفیشلز کو شرکت کا موقع دیا جائے

اگر مسائل حل نہ کیے گئے تو 6 دسمبر سے شروع ہونے والے نیشنل گیمز کے انعقاد پر سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.