امریکا — "گینگ آف ایٹ” کو حساس بریفنگ، وینزویلا کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں اہم عسکری پیشرفت سامنے آنے کا امکان

امریکا — "گینگ آف ایٹ" کو حساس بریفنگ، وینزویلا کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں اہم عسکری پیشرفت سامنے آنے کا امکان

واشنگٹن — امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین اور وزیر خارجہ مارکو روبیو منگل کی سہ پہر کانگریس کے بااختیار گروہ "گینگ آف ایٹ” کو اہم قومی سیکیورٹی بریفنگ دیں گے۔ معاملے سے باخبر دو ذرائع نے بتایا کہ بریفنگ کا شیڈول مقامی وقت کے مطابق سہ پہر 3:30 بجے (2030 GMT) طے ہے، جبکہ اس کے ایجنڈے کی نوعیت خفیہ رکھی گئی ہے۔

"گینگ آف ایٹ” امریکی کانگریس کے انٹلی جنس کمیٹیوں اور دونوں ایوانوں کی قیادت پر مشتمل گروہ ہے، جنہیں روایتی طور پر حساس دفاعی اور خفیہ نوعیت کے آپریشنز کے بارے میں براہِ راست آگاہ کیا جاتا ہے۔

وینزویلا کے ساتھ کشیدگی: امریکی تیاریاں تیز

یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکا اور وینزویلا کے درمیان تناؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی منشیات اسمگلنگ میں ملوث وینزویلا نیٹ ورکس کے خلاف زمینی کارروائی کی دھمکی دے چکے ہیں، جبکہ گزشتہ تین ماہ سے بحرالکاہل اور کیریبین میں امریکی بحری آپریشن جاری ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکا نے علاقے میں جنگی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جس میں ایک ایئرکرافٹ کیریئر اسٹرائیک گروپ اور ایک جوہری آبدوز کی تعیناتی بھی شامل ہے۔

سدرن کمانڈ کے سربراہ بھی کانگریس کو بریف کریں گے

اطلاعات یہ بھی ہیں کہ امریکی سدرن کمانڈ کے رخصت پذیر چیف ایڈمرل ایلون ہولسی ایوان اور سینیٹ کے قانون سازوں کے ایک علیحدہ وفد کو بریفنگ دیں گے۔ وہ رواں ہفتے جمعہ کے روز ریٹائر ہو رہے ہیں، اور ان کی قبل از وقت سبکدوشی نے واشنگٹن میں سوالات کو جنم دیا ہے۔

ہولسی کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان صرف ایک ماہ بعد ہوا جب پینٹاگون نے مشتبہ منشیات بردار کشتیوں کے خلاف آپریشن میں تیزی لانے کا فیصلہ کیا تھا — ایک ایسا اقدام جس کے نتیجے میں اب تک تقریباً 90 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ڈیموکریٹ قانون سازوں اور قانونی ماہرین نے اس پر شدید تنقید کی ہے۔

کچھ رپورٹس کا دعویٰ ہے کہ ہولسی کو وزیر دفاع کی بے اطمینانی کے باعث استعفیٰ دینا پڑا، تاہم انہوں نے خود اس کی کوئی وجہ ظاہر نہیں کی۔

متنازع کارروائیاں اور بین الاقوامی قوانین

2 ستمبر کو کیریبین میں ایک دوسری مشتبہ کشتی پر امریکی حملے کے بعد فوجی آپریشنز مزید سوالات کی زد میں آگئے ہیں۔ قانون سازوں کو فراہم کردہ ویڈیو میں دیکھا گیا کہ پہلی ضرب کے بعد کشتی تباہ ہو چکی تھی، اور دو افراد ملبے سے چمٹے ہوئے زندہ بچ نکلے — نہتے، بغیر مواصلاتی آلات اور فرار کی کوشش کے بغیر۔

امریکی فوجی قوانین کے مطابق ایسے افراد پر حملہ واضح طور پر غیر قانونی حکم تصور ہوتا ہے اور اس پر عمل درآمد سے انکار لازم ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ اسے ڈرگ کارٹلز کے خلاف جنگ قرار دے رہی ہے اور مؤقف رکھتی ہے کہ ان گروہوں کی سرگرمیاں امریکا میں منشیات کی ترسیل اور شہری ہلاکتوں کا سبب بنتی ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے