8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان: انروا کو کمزور کرنا خطے میں انسانی و سیاسی بحران پیدا کرے گا

0

ریاض / قاہرہ / عمان / ابوظہبی / جکارتہ / اسلام آباد / انقرہ / دوحہ: سعودی عرب، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، پاکستان، ترکیہ اور قطر کے وزرائے خارجہ نے اقوامِ متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (UNRWA) کے کردار کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایجنسی کی صلاحیتوں کو کمزور کرنے سے سنگین انسانی، سماجی اور سیاسی اثرات مرتب ہوں گے۔

وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ انروا کے بغیر کوئی دوسرا ادارہ فلسطینی پناہ گزینوں کی ضروریات کو مطلوبہ پیمانے پر پورا نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ایجنسی کا مینڈیٹ، جسے عالمی برادری نے دہائیوں قبل سونپا تھا، لاکھوں پناہ گزینوں کو تعلیم، صحت، سماجی خدمات اور ہنگامی امداد فراہم کرنے میں ناگزیر ہے۔ یہ مینڈیٹ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد نمبر 302 (1949) کے تحت قائم ہوا اور حالیہ تین سالہ تجدید نے ایجنسی کی اہمیت اور تسلسل پر بین الاقوامی اعتماد کو مضبوط کیا ہے۔

شیخ جراح میں اسرائیلی فوجی حملے کی مذمت

وزرائے خارجہ نے مشرقی القدس کے شیخ جراح محلے میں انروا کے ہیڈ کوارٹر پر اسرائیلی فوج کے دھاوے کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے اسے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر کی حرمت کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ عمل بین الاقوامی عدالت انصاف کی 22 اکتوبر 2025 کی مشاورتی رائے کی بھی خلاف ورزی ہے، جس میں قابض طاقت سے کہا گیا تھا کہ وہ انروا کے کام میں رکاوٹ نہ ڈالے بلکہ اسے آسان بنائے۔

غزہ میں انسانی امداد اور فنڈنگ کی اہمیت

وزرائے خارجہ نے غزہ کی پٹی میں جاری غیر معمولی انسانی بحران کے پیشِ نظر انروا کے بنیادی کردار پر زور دیا، خاص طور پر خوراک، ضروری سامان اور امدادی خدمات کی تقسیم کے حوالے سے۔ انہوں نے عالمی برادری سے کہا کہ انروا کے لیے کافی اور پائیدار فنڈنگ کو یقینی بنایا جائے تاکہ ایجنسی اپنے پانچوں آپریشنل علاقوں میں اپنے کام کو جاری رکھ سکے۔

بیان میں کہا گیا کہ انروا کی حمایت استحکام برقرار رکھنے، انسانی وقار کی حفاظت، اور فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک بنیادی ستون ہے، اور کسی بھی قسم کی کمزوری خطے میں مزید کشیدگی اور انسانی بحران کو بڑھا سکتی ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.