پاکستانی ڈیٹنگ ریئلٹی شو ’لازوال عشق‘ یوٹیوب پر پاکستان میں بلاک
اسلام آباد / کراچی — برطانوی ریئلٹی شو لو آئی لینڈ سے مشابہ پاکستانی ڈیٹنگ ریئلٹی شو لازوال عشق کو ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم یوٹیوب نے پاکستان میں بلاک کر دیا ہے، جس کے بعد یہ پروگرام ملک بھر کے ناظرین کے لیے دستیاب نہیں رہا۔ شو کی اب تک 50 اقساط نشر ہو چکی تھیں جبکہ مجموعی طور پر اس کے 100 اقساط پر مشتمل ہونے کا اعلان کیا گیا تھا۔
فوٹوز اور ویڈیوز شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر لازوال عشق کے آفیشل پیج سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پروگرام “سیاسی وجوہات” کی بنیاد پر پاکستان میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ شو کی انتظامیہ کے مطابق پاکستان کے علاوہ چند دیگر ممالک، جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، برطانیہ، امریکا، فرانس اور جرمنی شامل ہیں، میں ناظرین ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) کے ذریعے اس شو تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
تاحال یوٹیوب کی جانب سے لازوال عشق کو پاکستان میں بلاک کرنے کی وجوہات پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ پلیٹ فارم کی خاموشی کے باعث یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا یہ اقدام حکومتی دباؤ، عوامی شکایات، یا یوٹیوب کی کمیونٹی گائیڈ لائنز کی مبینہ خلاف ورزی کے تحت کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اردو زبان میں پیش کیے جانے والے اس شو نے سوشل میڈیا پر غیر معمولی توجہ حاصل کی تھی۔ اس کا پہلا ٹریلر دو ملین سے زائد بار دیکھا گیا، جب کہ شو کے جرات مندانہ اور غیر روایتی فارمیٹ نے خاص طور پر نوجوان طبقے کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ پروگرام کی میزبانی معروف اداکارہ عائشہ عمر کر رہی ہیں۔
تاہم، شو کے آغاز کے ساتھ ہی اسے پاکستانی صارفین کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا رہا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ پروگرام میں غیر شادی شدہ مرد و خواتین کو ایک ہی رہائش گاہ میں دکھانا ملکی، مذہبی اور سماجی اقدار کے منافی ہے۔ اسی بنیاد پر شو کے خلاف پیمرا میں باقاعدہ درخواست بھی دائر کی گئی، جس میں اس کے مواد پر اعتراضات اٹھائے گئے۔
اس معاملے پر پیمرا نے وضاحت کی تھی کہ انہیں شو کے خلاف بڑی تعداد میں شکایات موصول ہوئی ہیں، تاہم چونکہ لازوال عشق ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر نشر ہو رہا ہے، اس لیے ادارے کا دائرہ اختیار اس پر لاگو نہیں ہوتا۔ پیمرا کے مطابق ایسے معاملات میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) ہی متعلقہ ادارہ ہے جو کارروائی کر سکتا ہے۔
دوسری جانب شو کی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ پروگرام کو محض تفریحی مواد کے طور پر پیش کیا گیا اور اس کا مقصد پاکستانی ڈیجیٹل انڈسٹری میں نئے رجحانات متعارف کرانا تھا۔ انتظامیہ نے یوٹیوب کی جانب سے بلاک کیے جانے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ جلد اس مسئلے کا حل نکل آئے گا۔
لازوال عشق کی پاکستان میں معطلی نے ایک بار پھر ڈیجیٹل مواد، معاشرتی اقدار اور آن لائن ریگولیٹری فریم ورک کے درمیان توازن سے متعلق بحث کو جنم دے دیا ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یوٹیوب یا متعلقہ پاکستانی حکام اس معاملے پر کوئی باضابطہ وضاحت جاری کرتے ہیں یا شو مستقبل میں کسی متبادل پلیٹ فارم کے ذریعے پاکستانی ناظرین تک دوبارہ پہنچ پاتا ہے۔