صدر ٹرمپ نے فینٹانل کو ’’کیمیائی ہتھیار‘‘ قرار دینے والے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کردئیے، امریکی فوج کو وینزویلا میں وسیع کارروائیوں کے اختیارات مل گئے

0

واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دردکش دوا فینٹانل کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والا ہتھیار قرار دینے کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکی فوج کو وینزویلا میں زیادہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں کرنے کے اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کے مطابق اس فیصلے کا مقصد فینٹانل کی غیر قانونی تیاری، ترسیل اور سمگلنگ کے خلاف سخت اور ہمہ جہت کارروائی کو ممکن بنانا ہے۔

چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق ایگزیکٹو آرڈر میں غیر قانونی فینٹانل کو محض ایک نشہ آور دوا کے بجائے کیمیائی ہتھیار قرار دیا گیا ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ فینٹانل کی صرف دو ملی گرام مقدار — جو نمک کے محض 10 سے 15 دانوں کے برابر اور تقریباً ناقابلِ شناخت ہوتی ہے — ایک انسان کے لیے مہلک ثابت ہو سکتی ہے، جو اسے انتہائی خطرناک اور تباہ کن مادہ بناتی ہے۔

ایگزیکٹو آرڈر میں اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ فینٹانل کے بے جا اور غیر قانونی استعمال کے باعث اب تک کئی لاکھ امریکی شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جس نے اسے امریکا کے لیے ایک سنگین قومی سلامتی اور صحت عامہ کا بحران بنا دیا ہے۔ اسی تناظر میں محکمہ انصاف کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ فینٹانل کی سمگلنگ سے متعلق مقدمات کی فوری تحقیقات کرے اور اس نیٹ ورک میں ملوث افراد، گروہوں اور سہولت کاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

حکم نامے کے تحت وزارتِ جنگ (پینٹاگون) اور محکمہ انصاف کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ اس بات کا تعین کریں آیا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت کے لیے فوجی وسائل، انٹیلی جنس، لاجسٹکس اور آپریشنل صلاحیتیں فراہم کی جائیں یا نہیں۔ اس شق کے بعد امریکی فوج کے لیے بیرونِ ملک، بالخصوص وینزویلا میں، فینٹانل کی اسمگلنگ سے منسلک ڈھانچوں کے خلاف وسیع سطح پر کارروائیوں کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

مبصرین کے مطابق اس اقدام سے امریکا کی انسدادِ منشیات پالیسی میں نمایاں سختی آئے گی اور فینٹانل کو قومی سلامتی کے تناظر میں نمٹنے کی حکمتِ عملی مزید جارحانہ ہو سکتی ہے، تاہم اس فیصلے کے خطے میں سیاسی اور سفارتی اثرات بھی مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.