ایران پر ایک اور حملے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا، ہم پہلے سے زیادہ تیار ہیں: عباس عراقچی
تہران — ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران پر ایک اور حملے کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا، تاہم ایران ایسی کسی بھی صورتحال کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہے۔
روسی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں، لیکن اگر مسلط کی گئی تو اس کا بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ سے بچاؤ کا مؤثر ترین راستہ یہ ہے کہ ملک دفاعی طور پر مکمل طور پر تیار ہو۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران ماضی کی جارحیت سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کر چکا ہے اور اگر کسی فریق نے سابقہ ناکام تجربات کو دہرانے کی کوشش کی تو اسے کوئی بہتر نتیجہ حاصل نہیں ہوگا۔
دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ایران بیلسٹک میزائل پروگرام کو مزید وسعت دے رہا ہے، جس کے باعث اسرائیلی قیادت ایران کے خلاف ممکنہ نئی کارروائی پر غور کر رہی ہے۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم آئندہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متوقع ملاقات کے دوران ایران پر دوبارہ حملے کے امکان اور اس حوالے سے امریکی تعاون پر بات کر سکتے ہیں۔
علاقائی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔