ٹرمپ انتظامیہ نے 30 امریکی سفیروں کو عہدوں سے ہٹا کر واشنگٹن طلب کر لیا
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مختلف ممالک میں تعینات 30 امریکی سفیروں کو عہدوں سے ہٹا دیا ہے اور انہیں آئندہ ماہ جنوری کے اختتام تک واشنگٹن رپورٹ کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق عہدے سے ہٹائے گئے تمام سفارتکاروں کی تقرری سابق صدر جو بائیڈن کے دورِ حکومت میں کی گئی تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ امریکی خارجہ پالیسی میں تبدیلی اور نئی سفارتی ترجیحات کے تحت کیا گیا ہے۔ سفیروں کی واپسی سے سب سے زیادہ متاثر افریقی خطہ ہوا ہے، جہاں سے 13 سفارتکاروں کو واپس بلایا جا رہا ہے، جبکہ ایشیا پیسیفک خطے کے 6 اور یورپ کے 4 ممالک—آرمینیا، مقدونیہ، مونٹی نیگرو اور سلوواکیہ—کے سفیر بھی اس فیصلے کی زد میں آئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں الجزائر اور مصر، جنوبی ایشیا میں نیپال اور سری لنکا جبکہ وسطی امریکہ کے ملک گوئٹے مالا میں تعینات امریکی سفیروں کو بھی واپس بلانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
مبصرین کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی سفارتی مشنز میں وسیع پیمانے پر ردوبدل اور خارجہ پالیسی کو نئی سمت دینے کی کوشش کا حصہ ہے۔